نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں’کلائمیٹ ٹیکس‘ متعارف کرا دیا گیا

میئر آکلینڈ فل گوف کا کہنا ہے کہ کلائمیٹ ٹیکس سے اکٹھی ہونے والی آمدنی سے راستوں کو سرسبز بنایا جائے گا۔

نیوزی لینڈ کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک شہر آکلینڈ نے اپنے رہائشیوں کے لیے موسمیاتی ٹیکس کی تجویز پیش کی ہے جو ممکنہ طور پر دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا پہلا ایسا ٹیکس ہے جو متعارف کرایا گیا ہے۔ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی شہری فنڈ میں جائے گی تاکہ اسے شہر کو سرسبز بنانے کی کوششوں پر صرف کیا جاسکے۔

آکلینڈ کے میئر فل گوف نے بدھ کے روز اس منصوبے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں موجود ہر گھر کے مالک پر ہر ہفتے اوسطاً ایک نیوزی لینڈ ڈالر سے کچھ زیادہ ٹیکس لگایا جارہا ہے تاکہ شہر بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں مدد مل سکے اور بلین ڈالر کے کلائمیٹ فنڈ میں اپنا حصہ ڈالا جا سکے۔ اس فنڈ سے ٹرانسپورٹ کا نیا نظام لایا جائے اور درخت لگائے جائیں گے تاکہ فضا میں موجود کاربن کی مقدار کو کم کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیے

چینی دراندازی سے متعلق سوال، بھارتی رکن پارلیمنٹ کو خاموش کروا دیا گیا

آسٹریلوی پارلیمنٹ کے ایک تہائی ملازمین جنسی ہراسانی کا نشانہ بنے

نئے فنڈ سے شہر کی فضاء میں موجود کاربن کی زیادتی کو کم کرنا ہے، جوکہ آکلینڈ کے پبلک ٹرانسپورٹ سے خارج ہوتی ہے جو کا حصہ 21 فیصد بنتا ہے ۔ پیدل چلنے والوں اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے افراد کےلیے سڑکوں کے انفراسٹرکچر ٹھیک کرنا ہے اور درختوں کی افزائش کو بڑھانا ہے۔

آکلینڈ کے میئر فل گوف کا مزید کہنا ہے کہ مجوزہ فنڈ کا مقصد جزوی طور ٹیکس محصولات کو بڑھانا ہے، ہم نے اس ٹیکس کو کلائمیٹ ایکشن ٹارگیٹڈ ریٹ کہہ سکتے ہیں۔ ہمیں اگلے 10 سالوں دوران تقریباً 574 ملین ڈالر جمع کرنا ہیں جبکہ 471 ملین ڈالر کے لیے مرکزی حکومت معاونت کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اوسط قیمت والے گھر کے مالک کو ہفتہ وار 1.18 نیوزی لینڈ ڈالر ٹیکس دینا پڑے گا جبکہ اس کے کم قیمت والے گھر کے مالک کو 1.10 ڈالر ادا کرنا پڑے گا۔

متعلقہ تحاریر