سلک بینک کی فروخت سے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ آگیا
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شوکت ترین اور عارف حبیب کے شیئر ہولڈنگ میں کوئی بھی لین دین اس درخواست پر فیصلے کے نتائج سے مشروط ہو گا، کیس پر مذید سماعت 13 اپریل 2022 کو کی جائے گی۔
سلک بینک کی فروخت اور انتظامی بے ضابطگی کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔ تحریری حکمنامہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے جاری کیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق سلک بینک، ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بنک آئندہ سماعت سے پہلے جواب ہائیکورٹ میں داخل کرائیں، 3 ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
شیریں مزاری نے الیکشن کمیشن کو دائرہ اختیار کا سبق پڑھا دیا
صدر سپریم کورٹ بار کا قومی اسمبلی کے اجلاس میں تاخیر پرسنگین نتائج کا انتباہ
عدالتی حکم کے مطابق شوکت ترین اور عارف حبیب اسپانسر شیئر ہولڈرز ہونے کی وجہ سے ان کے اسپانسرز کے حصص بلاک ہیں، مذکورہ شیئرز سلک بنک کی پیشگی اجازت کے بغیر فروخت نہیں کیے جا سکتے،
تاہم وہ یہ بھی قبول کرتا ہے کہ وہ اس بات سے آگاہ نہیں ہے کہ آیا شوکت ترین کے تمام حصص اسپانسر شیئرز کے طور پر اہل ہیں یا نہیں۔
حکم نامے کے مطابق تجارتی طور پر خفیہ معلومات کی حساسیت کی وجہ سے ان کیمرہ سماعت کی درخواست کرتا ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ تاخیر کی وضاحت کے لیے اسے دیکھنا ہوگا،
سلک بینک کے مالیاتی گوشواروں کو پھیلانا اور یہ عرض کرنا کہ اس کا کھلا انکشاف مفاد عامہ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کے جاری حکم نامے کے مطابق خاص طور پر عوام کا وہ طبقہ جو سلک بنک سے براہ راست اور بالواسطہ اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ہے، رخواست گزار کے وکیل نے بھی ان کیمرہ سماعت سماعت کے لئے اعتراض نہیں کیا، ان کیمرہ سماعت کی درخواست عارضی طور پر قبول کر لی گئی ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اس کے بعد ہونے والی سماعتیں ان کیمرہ جاری رہیں گی یا نہیں، اس کا فیصلہ مذکورہ معلومات کی حساسیت کا ابتدائی جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شوکت ترین اور عارف حبیب کے شیئر ہولڈنگ میں کوئی بھی لین دین اس درخواست پر فیصلے کے نتائج سے مشروط ہو گا، کیس پر مذید سماعت 13 اپریل 2022 کو کی جائے گی۔









