جنسی ہیجان کا خدشہ ، جاپان نے اسکولوں میں پونی ٹیل پر پابندی لگادی

پونی ٹیل کرنے سے گردن کا عقبی حصہ نمایاں ہوتا ہے جو لڑکوں میں جنسی ہیجان کا باعث بن سکتا ہے

اسکولز معاشرے میں  بہترین انسان  پیدا کرنے کا مرکز ہوتے ہیں جہاں بچوں کو اخلاقیات  سے روشناس کرانے کیلئے قوائد وضوابط بنائے جاتے ہیں تاکہ بچے ایک مہذب معاشرے کو پروان چڑھانے کا باعث بنیں ، جاپانی معاشرہ جو دنیا کے مہذب ترین معاشروں میں سرفہرست آتا ہے تاہم یہاں کہ اسکولوں میں ایسے قوانین لاگو ہیں جو کسی حد تک غیر معمولی اور مضحکہ خیز ہیں۔

گذشتہ روز جاپان کے جنوبی شہر فوکوکا کے اسکولوں میں طالبات کے پونی ٹیل ہیئر اسٹائل پر پابندی عائد کردی، جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہےکہ لڑکیوں کے پونی ٹیل کرنے سے ان کی گردن کا عقبی حصہ نمایاں ہوتا ہے جو کہ اسکول میں پڑھنے والے لڑکوں میں جنسی ہیجان کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جاپانی بحریہ کے جہاز کا کراچی کا دورہ اور پاکستان نیوی کے ساتھ بحری مشقیں

جاپان کی حکومت نے وزیر تنہائی مقرر کردیا

2020 میں کئے جانے والے ایک سروے کے مطابق جاپان کے  دس میں سے ایک اسکول نے  طالبات کے پونی ٹیل اسٹائل پر پابندی عائد کر رہی ہے جبکہ گذشتہ روز فوکوکا کے تمام اسکولوں میں اس قانون  کو نافذکردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جاپان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں اسکولوں میں غیرمعمولی اور مضحکہ خیز حد تک عجیب و غریب قوانین نافذ ہیں جہاں اسکرٹ کے سائز ، بھنووں کا انداز، موزوں کا رنگ سمیت  بالوں کو رنگنے پر بھی پابندی ہے ، جاپان میں اسکولوںمیں طالبات کو اپنے بالوں گھنگریالے کرنے پر بھی پابندی ہے اور اگر کسی طالبہ کے بال قدرتی طور پر گھنگریالے ہیں تو اس کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ یہ مصنوعی نہیں ہیں بلکہ قدرتی ہیں ۔

جاپان کے اسکولوں میں طلباء کے زیر جامے کا بھی ڈریس کو ڈ ہے جس کے تحت تمام طلباء  کو ایک جیسے رنگ کے زیر جامے پہنے کے احکامات ہیں ۔

متعلقہ تحاریر