بھارتی فلم کشمیر فائلز ہندو انتہا پسندی کے فروغ کا ایک اور ہتھکنڈا

نرندر مودی  کے آشیر باد سے فلم ساز وویک رنجن اگنی ہوتری نے مسلمانوں سے نفرت  کا اظہار کرتے ہوئے فلم ’دی کشمیر فائلز‘ ریلیز  کی

بھارت میں  مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز اقدامات اب حکومتی سرپرستی میں شرو ع ہوگئے ہیں ، بھاراتی فلم ساز وویک رنجن اگنی ہوتری کی نفرت اور مسلم مخالف پر مبنی فلم ’دی کشمیر فائلز‘ نے مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھادی اور سینماؤں میں بھی مسلم مخالف نعرے گونجنے لگے۔

بھارت میں مسلمانوں کی کل آبادی تقریبا 21 کروڑ کے لگ بھگ ہے  جو بھارت کی  ایک اعشاریہ چار ارب کی آبادی کا تقریباً 14 فیصد ہیں۔ اتنی کثیر تعداد ہونے کے باوجود بھارتی مسلمان  ہندوانتہاپسندوں کے بعد نشانے پر رہتے ہیں آئے روز کوئی نا کوئی ایسا واقعہ ضرور ہوتا ہے جس میں  مسلمانوں کو ہدف بنایا جاتا ہے تاہم اب  مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز اقدامات حکومتی سطح پر ہونے لگے ہیں۔

اسلام مخالف  شدت پسند بھارتی وزیراعظم نرندر مودی  کے آشیر باد سے فلم ساز وویک رنجن اگنی ہوتری نے مسلمانوں سے نفرت  کا اظہار کرتے ہوئے فلم ’دی کشمیر فائلز‘ ریلیز  کی جس نے بھارتی  مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھادی اور سینماؤں میں بھی مسلم مخالف نعرے گونجنے لگے۔

یہ بھی پڑھیے

فرانس کی اسلام مخالف ایک اور سازش

امن چوپڑا کا اسلام مخالف پروگرام ‘تھوک جہاد’ بند ہونا چاہئے

مسلمانوں کے خلاف  نفرت  اور جھوٹ پر مبنی  فلم ’دی کشمیر فائلز‘ کو چند دن قبل ہی ریلیز کیا گیا تھا، فلم کی کہانی 1990 میں مقبوضہ کشمیر میں کی گئی نسل کشی پر مبنی ہے لیکن حیران کن طور پر فلم میں مسلمانوں کے بجائے ہندو پنڈتوں کی نسل کُشی کو دکھایا گیا ہے اور مسلمانوں کو دہشتگرد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

فلم میں دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کشمیر ہندوؤں کی سرزمین تھی، جہاں مسلمانوں نے دہشتگردی کرکے ہندو پنڈتوں کی نسل کشی کرکے انہیں کشمیر  چھوڑنے پر مجبور کیا۔ فلم کی ریلیز کے بعد وزیر اعظم نریند مودی سمیت حکومتی وزرا اور حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور عام ہندو بھی اس کی تعریفیں کرتے دکھائی دیتے ہیں اور مسلمانوں کو غدار قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت میں بھارتی جنتا پارٹی مسلمانوں کے خلاف کھل کر سامنے آچکی ہے  حالیہ ہی بھارتی سپریم کورٹ کے تین ججوں نے کہا کہ وہ اتراکھنڈ ریاست کی حکومت کو نوٹس بھیج رہے ہیں ، پولیس کو دائر کی گئی ایک شکایت کے مطابق اترا کھنڈ کے شمالی مقدس قصبے، ہریدوار  میں بے جے پی کے سیاسی پروگرام کے دوران  ہندو مذہبی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف قتل عام کے لیے خود کو مسلحّ کر لیں۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی پولیس حرکت میں آئی تاہم کئی روز گزر جانے کے باوجود تاحال کوئی گرفتار عمل میں نہیں آسکی ۔

ایک جانب جہاں حکومتی سرپرستی میں مسلمانوں کے خلاف منظم نفر ت انگیز مہم چلائی جارہی ہے اور مسلمانوں کو غدار ثابت کرنے کیلئے تمام تروسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں وہی بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ’دی کشمیر فائلز‘ کو تاریخی جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے لوگوں اور حکومت سے سوال کر رہے ہیں کہ اب تو کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے اسے بھارتی حکومت کے ماتحت کیا جا چکا ہے اور وہاں پر لاکھوں بھارتی فوجی موجود ہیں تو پھر ابھی تک بیرون ملک فرار ہوجانے والے کشمیری پنڈت واپس کیوں نہیں آ رہے؟

حیران کن طور پر زیادہ تر ہندو فلم کو پروپیگنڈا کے بجائے حقیقت مان کر اسے حرف آخر تسلیم کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر مسلمان مخالف مواد کی بھرمار ہے۔

متعلقہ تحاریر