غیریقینی سیاسی صورتحال: غیر ملکی سرمایہ کاری میں 45 کروڑ ڈالر کی کمی

9 مہینوں میں ملک میں ایک ارب 44 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔

اسٹیٹ بیک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق  جولائی سے مار کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں دو فیصد (45 کروڑ ڈالر ) کی کمی ہوئی  جبکہ مالی سال 2022 میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری  میں ایک ارب 28 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہی۔

پاکستان میں سیاست کی غیر یقینی صورتحال نے پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت  کو ایک زبرست جھٹکا دیا ہے ، ملکی سیاسی صورتحال سے بیرونی سرمایہ کار خائف رہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مارچ کے سرمایہ کاری کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ ان کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2022 میں ملکی نجی شعبے سے 5 کروڑ 76 لاکھ ڈالرز نکالے گئے ہیں۔

مرکزی بینک کے مطابق مارچ میں بیرونی سرمایہ کاری میں  45 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی ۔ مارچ میں اسٹاک مارکیٹ سے پونے تین کروڑ ڈالر اور براہِ راست سرمایہ کاری کی مد میں 3 کروڑ ڈالرز نکالے گئے ہیں جبکہ مارچ میں ملکی سرکاری شعبے سے بیرونی سرمایہ کاروں نے 40 کروڑ ڈالر نکالے ہیں۔9 مہینوں میں ملک میں ایک ارب 44 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسٹیٹ بینک نے ہفتے میں چھ دن کام کرنے کے نظرثانی شدہ اوقات جاری کردیئے

اسٹیٹ بینک کو ڈیجیٹل بینکوں کے لیے متعدد درخواستیں موصول

جولائی سے مارچ کے دوران براہِ راست سرمایہ کاری کا حجم ایک ارب 28 کروڑ ڈالر رہا جبکہ اسٹاک مارکیٹ سے 9 مہینوں میں 34 کروڑ ڈالر نکالے گئے۔ یوں 9 مہینوں میں ملکی نجی شعبے میں 94 کروڑ کی سرمایہ کاری ہوئی، ملکی سرکاری شعبے میں 50 کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔بیرونی سرمایہ کاری میں چین ایک ارب چوالیس کروڑ ڈالر کے ساتھ سال 2022 کا سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار رہا ۔

متعلقہ تحاریر