افغان حکام کا دوران نشریات خواتین اینکرز کو چہرہ ڈھانپنے کاحکم

باپردہ اینکرز تمام افغان خواتین کے لیے ایک اچھی رول ماڈل ثابت ہوں گی، چہرہ ڈھانپنے کیلیے میڈیکل ماسک بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، ترجمان وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر

افغان حکام نے نشریاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نشریات کے دوران  خواتین میزبانوں کی جانب سے چہروں کا ڈھانپنا  یقینی بنائیں۔

یہ احکامات طالبان حکومت کی جانب سے حال ہی میں دی گئی اس ہدایت کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں افغان خواتین کو عوامی سطح پر چہرے ڈھانپنے کا  کہا گیا تھا۔اس اقدام کو طالبان کی ماضی کی انتہائی قدامت پسند  حکمرانی کی واپسی سے تعبیر کیا جارہا ہے اور اسے فیصلے کو ملک اور بیرون ملک طالبان کیلیے ناپسندیدگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

طالبان نے انسانی حقوق کمیشن سمیت 5 ”غیرضروری“ محکمے تحلیل کردیے

نئی دہلی: عدالت نے حریت رہنما یاسین ملک کو خلاف ضابطہ مجرم قرار دے دیا

 

طالبان کی وزارت امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے ترجمان عاکف مہاجر نے جمعرات کو عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کو بتایا کہ حکام نے تمام مقامی نشریاتی اداروں کو مطلع کردیا گیا ہے کہ نشریات کے دوران ان کے خواتین عملے  کے چہرے باحجاب ہونے چاہئیں۔

انہوں  نے کہا کہ مسلم خواتین کے لیے حجاب یا  اسکارف ضروری ہے  اور باپردہ اینکرز افغانستان میں تمام خواتین کے لیے ایک اچھی رول ماڈل ثابت ہوں گی۔

افغانستان کے طلوع نیوز نے جمعرات کو اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر نئے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا  ہے کہ طالبان کے خواتین میزبانوں کیلیے چہرے ڈھانپنے سے متعلق احکامات ناقابل بحث ہیں۔

طلوع نیوز کے مطابق  وزارت امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور وزارت اطلاعات و ثقافت نے اسے حتمی فیصلہ قرار دیا ہے اور اس پر بحث نہیں کی جاسکتی۔طلوع نیوز کو موصولہ اطلاعات کے مطابق  یہ حکم افغانستان کے تمام میڈیا اداروں کو جاری کیا گیا ہے۔

طالبان کے 1996-2001 کے دور حکومت میں خواتین کے لیے نیلے رنگ کا برقع پہننا لازمی تھا۔اگست 2021 میں  دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد طالبان نے ابتدائی طور پر خواتین کے لیے لباس کا کوئی ضابطہ نہ رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی پابندیوں میں کچھ حد تک اعتدال کا مظاہرہ کیا۔ لیکن حالیہ ہفتوں میں حکام نے پابندیاں متعارف کرائی ہیں۔

7 مئی کو طالبان نے اعلان کیا کہ اب  تمام قابل احترام افغان خواتین کے لیے حجاب پہننا لازمی ہے۔ طالبان کی نئی حکومت کا یہ پہلا حکم نامہ ہے جس میں خواتین کے لباس کے ضابطے کی خلاف ورزی پر مجرمانہ سزامقرر کی گئی ہے۔

زیادہ تر افغان خواتین مذہبی وجوہات کی بنا پر سر پر اسکارف پہنتی ہیں لیکن کابل جیسے شہری علاقوں میں بہت سی خواتین اپنا چہرہ نہیں ڈھانپتیں۔وزارت امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے ترجمان عاکف مہاجر نے  خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ خواتین میزبان چہرہ ڈھانپنے کیلیے میڈیکل فیس ماسک کا استعمال بھی کرسکتی ہیں جو کرونا وبا کے دوران دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا رہا ہے۔

متعلقہ تحاریر