صحافیوں پر تشدد؛ رانا ثناا ور آئی جی ذمہ دار، پارلیمانی رپورٹرز کا اندراج مقدمہ کا مطالبہ
پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی اور تشدد کا ذمہ دار حکومت، وزیر داخلہ ،آئی جی پولیس، اور اسسٹنٹ کمشنر عبداللہ کو قرار دیتے ہوئے اندراج مقدمہ کے مطالبہ کیا ہے

پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر اے ) اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی اور تشدد کی ذمہ داری وزیر داخلہ رانا ثنااللہ، انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد پر عائد کردی ۔
پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر اے ) نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی اور تشدد کی شدید مذمت کی اور مکمل ذمہ داری حکومت پر عائد کی ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
سچائی تلاش کرنے کے جرم میں 93 پاکستانی سمیت 1700 صحافیوں کو قتل کردیا گیا
سیکرٹری اطلاعات پی آر اے ملک سعید اعوان نےکہا کہ احاطہ عدالت میں صحافیوں پر تشدد کی مکمل ذمہ داری وفاقی حکومت، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد عائد کی ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے میں پہلی بار صحافیوں پر تشدد دہشت گردی اور توہین عدالت ہے___!
تشدد رانا ثناء اللہ اور IG پولیس کی ناکامی ہے_ صحافیوں پر تشدد کا حکم دینے والے اسسٹنٹ کمشنر عبداللہ اور پولیس اہلکاروں پر مقدمہ درج کیا جائے_ پی آر اے کا مطالبہ#JournalismIsNotACrime pic.twitter.com/ShGfYySkGT
— PRA (@PRAOfficial3) February 28, 2023
پی آر اے نے کہا کہ صحافیوں پر حملے نہ صرف آزادی صحافت اور عدالت کی بھی توہین ہے ۔جرنلسٹس کو ان کے پیشہ روانہ کاموں سے روکنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔
پی آر اے کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں اسسٹنٹ کمشنر (اے سی )عبداللہ کے حکم پر صحافیوں پر پولیس اہلکاروں نے تشدد کرکے توہین عدالت کی گئی ۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں پر بے رحمانہ تشدد واضح کرتا ہے کہ یہ کسی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں بلکہ اسسٹنٹ کشمنر عبداللہ کے احکامات پر کیا گیا جوکہ پہلے بھی ایسے واقعات کا ذمہ دار ہے ۔
پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹنٹ کمشنر اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے ،اس ضمن میں ہر لائحہ عمل میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے۔









