کسی ایسے ادارے کے ساتھ کام نہیں کرسکتا جہاں سیاسی وفاداری کو قابلیت پر فوقیت دی جائے، طارق ملک

چیئرمین نادرا طارق ملک نے اپنے استعفیٰ میں اپیل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "میری درخواست صرف یہ ہوگی کہ کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو اس عہدے پر متعین نہ کیا جائے۔"

چیئرمین نادرا  طارق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی پیشہ ور شخصیت کے لیے کام کرنا انتہائی مشکل ہے ، کیونکہ یہاں قابلیت پر سیاسی وفاداری کو فوقیت دی جاتی ہے۔

یہ وہ خیالات ہیں جو چیئرمین نادرا طارق ملک نے اپنے استعفیٰ میں بیان کیے ہیں۔ طارق ملک نے گذشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی اور اپنا استعفیٰ انہیں پیش کیا تھا۔

طارق ملک نے اپنے استعفیٰ میں لکھا ہے کہ "مجھے فخر ہے کہ میں نادرا میں بطور چیئرمین اپنے فرائض سرانجام دیے ، میں نے اہم قومی ادارے کے لیے ایک عاجزانہ کردار ادا کیا، جب کہ نادرا کی قیادت کرنا، بہت سے شاندار افراد اور اداروں سے منسلک ہونا، اور بہت کچھ سیکھنا، میرے لیے یہ ایک مکمل اعزاز کی بات ہے۔”

یہ بھی پڑھیے 

آئینی اختیار آئین میں ترمیم سے تبدیل کیا جاسکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال

اسلام آباد میں دائر کرپشن کیس: لاہور ہائیکورٹ سے بشریٰ بی بی کی 21 جون تک ضمانت منظور

طارق ملک نے لکھا ہے کہ "مگر اب یہ میرے لیے مشکل ہوتا جارہا ہے کہ میں سیاست زدہ ماحول میں کام کرسکوں۔ کسی بھی پیشہ ور شخص کے لیے ایسے ماحول میں اپنی سالمیت اور آزادی کو برقرار رکھنا مشکل ہے، جہاں لوگوں کے درمیان "ہم اور تم” کا مقابلہ شروع ہوجائے۔”

چیئرمین نادرا نے اپنے استعفیٰ میں لکھا ہے کہ "ایسے ادارے کھوکھلے ہو جاتے ہیں جہاں سیاسی وفاداری کو قابلیت پر فوقیت دی جاتی ہے۔  جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے، میں ماہرین تعلیم کے ایک عاجز خاندان سے تعلق رکھتا ہوں جن کی پاکستان کے ساتھ وفاداری قابل فخر ہے۔ میری اقدار ان سمجھوتوں سے زیادہ اہم ہیں جن کی مجھ سے توقع کی جاتی ہے۔’

طارق ملک نے مزید لکھا ہے کہ "اس سے قطع نظر کہ پارٹی X، Y، یا Z اقتدار میں ہے، میں نے تمام موجودہ حکومتوں کو وقار اور فضل کے ساتھ خدمت کرنے کی کوشش کی ہے۔  میں نے نادرا کی جانب سے پارلیمنٹ میں مختلف سلیکٹ کمیٹیوں میں دیانتدارانہ نمائندگی کی ہے۔ پارلیمنٹیرین کا تعلق خزانہ سے ہو یا اپوزیشن بنچ سے، میں نے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے تمام جائز تحفظات کو دور کیا ہے۔”

طارق ملک نے مزید لکھا ہے کہ "جب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی مدد کے لیے بلایا گیا تو میں نے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کام کیا، قطع نظر ان کے پس منظر سے۔ میں نے 300 سے زائد سیاسی جماعتوں کو خطوط لکھے اور ان کے لیے نادرا کے دروازے کھول دیے تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ ووٹر لسٹ ای سی پی کی موجودگی میں کیسے بنائی جاتی ہے۔  میں بنیادی طور پر شامل اداروں کی تبدیلی کی طاقت پر یقین رکھتا ہوں جو افراد اور پارٹیوں کو زندہ رکھتے ہیں۔”

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "تاہم موجودہ سیاسی طور پر سورش زدہ ماحول میں اس اہم توازن کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔  اس لیے میں نادرا کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونا چاہوں گا۔ برائے مہربانی اس خط کو میرے استعفیٰ کے نوٹس کے طور پر قبول کریں۔ میں اس عہدے کے لیے کسی موزوں شخص کو مقرر کرنے کے لیے آپ کے اختیار سے واقف ہوں۔ میری درخواست صرف یہ ہوگی کہ کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو اس عہدے پر متعین نہ کیا جائے۔”

متعلقہ تحاریر