حکمران اتحادی عبوری وزیر اعظم کے لیے گہری مشاورت میں مصروف
ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد نے نگراں وزیراعظم کے لیے چاروں صوبوں سے 5 ناموں کو شارٹ لسٹ کردیا گیا ہے۔
پاکستان میں نگراں وزیراعظم کی تقرری کا مشن ایک نازک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، حکومت اور اس کے اتحادیوں کے درمیان تیز رفتاری مشاورت جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومتی اتحاد اس وقت نگراں وزیراعظم کے عہدے کے لیے پانچ ممکنہ امیدواروں پر مشاورت کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) دونوں نے اپنے اپنے اتحادیوں سے اپنے پسندیدہ ناموں کو حتمی شکل دینے کے لیے مشاورت شروع کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
نواز شریف جلد وطن واپسی کا اعلان کریں گے، ذرائع
بلوچستان کی اہم سیاسی شخصیات کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا امکان
حکومتی ٹیم کے سربراہ ایاز صادق نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) اور جمہوری وطن پارٹی (جے ڈبلیو پی) سے رابطہ کیا ہے۔
مشاورتی کمیٹیوں نے نگراں وزیراعظم کے لیے تین حتمی امیدواروں کا فیصلہ پارٹی قیادت پر چھوڑ دیا جائے۔ جس کے بعد شہباز شریف، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان نے اہم فیصلہ کرنے کے لیے دیگر جماعتوں سے رابطے شروع کردیئے ہیں۔
باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ زیر غور پانچ امیدواروں کا تعلق چاروں صوبوں سے ہے جن میں دو نام پنجاب اور ایک ایک نام سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے لیا گیا ہے۔ دونوں بڑی جماعتیں تاجر برادری یا سول سوسائٹی سے غیر جانبدار امیدواروں کے انتخاب کے حق میں نظر آتی ہیں۔
واضح رہے کہ پیر کے روز حکمران اتحاد میں شامل تمام سیاسی جماعتوں نے نگراں وزیر اعظم کے نام کے لیے دو دن کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔
یہ حتمی تاریخ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اتحادی جماعتوں کے مشاورتی اجلاس میں طے پائی تھی۔
اجلاس میں اتحادی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی
حکومت نے تمام تمام اتحادی پارٹیوں سے کہا تھا کہ وہ دو دن میں قیادت سے مشاورت کے بعد نگراں سیٹ کے لیے نام تجویز کریں۔
موجودہ قومی اسمبلی (این اے) 12 اگست کو تحلیل ہونے والی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے اسے سرکاری مدت سے پہلے تحلیل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
نگراں حکومت عام انتخابات کی نگرانی کی ذمہ دار ہو گی جو اکتوبر میں متوقع ہیں۔









