وکلاء پر تشدد: پاکستان بار کونسل کا پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی لاہور میں وکلاء پر پولیس گردی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ہمنوائی میں پاکستان بار کونسل نے بھی 24 مئی کو لاہور میں پولیس کی جانب سے پرامن وکلاء برادری پر بہیمانہ تشدد کی مذمت کی ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس پریزیڈنٹ حفیظ الرحمان چوہدری اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین پیر محمد مسعود چشتی نے 24-05-2022 کو لاہور کے وکلاء کے خلاف پولیس کے بربریت کی شدید مذمت کی ہے، جب وہ اسلام آباد میں ایک سیاسی جماعت کی ایکٹیویٹی میں حصہ لینے کے لیے بس میں پُرامن طریقے سے بیٹھے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کے چڑھائے ہوئے قرضے نسلیں بھی نہیں اتار پائیں گی، شہباز شریف

عمران خان خیبرپختون خوا میں جلسے ضرور کریں مگر لیڈر پورے ملک کے بنیں

پولیس نے وکلاء کو بس سے اتار کر ان کی تذلیل کی ، بدتمیزی کی ، بدتہذیبی سے پیش آئے اور وحشیانہ تشدد کیا اور مزید یہ کہ لاہور کے تھانہ اسلام پورہ میں نامعلوم وکلاء کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی۔

Imran Khan and Pakistan Bar Council
news 360

ان کا کہنا تھا کہ وکلاء سمیت ہر فرد کو ملک میں احتجاج اور کسی بھی سرگرمی میں حصہ لینے کا بنیادی حق حاصل ہے۔

انہوں نے وکلاء کے خلاف پولیس فورس کے بے جا مداخلت کی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے نہ صرف پولیس کا شرمناک فعل قرار دیا بلکہ پولیس کے نظم و ضبط اور ڈیوٹی کی بھی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کے وحشیانہ طاقت کے استعمال اور رویے نے وکلاء کی عزت نفس کو مجروع کیا ہے ، جو ہمیشہ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لیے کام کرتے ہیں، اور اس لیے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر سخت کارروائی کی جانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے وفاقی اور پنجاب حکومت سمیت اعلیٰ پولیس افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف فوری طور پر سخت کارروائی کی جائے۔  جو پولیس اہلکار اس شرمناک اور غیر انسانی فعل میں ملوث ہیں انہیں عبرتناک سزا دی جائے۔

پاکستان بار کونسل نے بھی وہ مطالبہ کیا ہے جس کا ڈیمانڈ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کررہے ہیں۔ سابق وزیراعظم نے وکلاء پر تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے شرمناک فعل قرار دیا تھا۔

عمران خان نے حکومت پنجاب اور رانا ثناء اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ پولیس نے وکلاء پر بلاوجہ تشدد کیا ہے ، وہ کسی قسم کی غیرقانونی حرکت میں ملوث نہیں تھے اور نہ انہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا تھا۔ اس لیے ہماری مانگ کے جو جو پولیس اہلکار اس قبیح فعل میں ملوث ہے اس کو سزا دی جائے۔

متعلقہ تحاریر