حکومت مالی سال 2021-22 کے دوران مشکل اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہی، مفتاح اسماعیل کا اعتراف

اقتصادی سروے کے مطابق معیشت کا حجم 383 ارب ڈالر جبکہ فی کس آمدن 1676 ڈالر سے بڑھ کر 1798 ڈالر ہوگئی۔

قومی اقتصادی سروے میں بیشتر مشکل اہداف حاصل ، مہنگائی اور خسارے بے قابو رہے۔ اس زراعت ، انڈسٹری اور سروسز سیکٹر کے اہداف حاصل ہوگئے، وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے اقتصادی سروے جاری کر دیا۔

مالی سال 2021-22 میں بے روزگاری، مہنگائی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، شرح سود اور ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا۔ حکومت نے اقتصادی سروے رپورٹ کا اجراء کر دیا۔  اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق 11 ماہ میں برآمدات ریکارڈ 29 ارب ڈالر رہیں۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت کتنے خسارے کا بجٹ پیش کرنے جارہی ہے؟

وفاقی بجٹ 2022-23: ابتدائی تخمینے کی تفصیلات نیوز 360پر دستیاب

اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق  زراعت، انڈسٹری اور سروسز سیکٹر کے اہداف حاصل کیئے گئے۔

زراعت میں شرح نمو 4.4 فیصد، صنعت 7.2 فیصد، خدمات 6.2 فیصد، بڑی صنعتوں میں 10.5 فیصد رہی۔

بجلی کی پیداوار اور تقسیم کی شرح نمو 7.9 فیصد ، مواصلات اور ٹرانسپورٹ میں ترقی کی شرح 5.4 فی صد رہی، فی کس آمدن کا 2 لاکھ 46 ہزار 414 روپے رہی۔

گیارہ ماہ میں برآمدات ریکارڈ 29 ارب ڈالر رہیں، تعلیمی شعبہ میں شرح نمو 8.7 فیصد رہی۔

سروے رپورٹ کے مطابق کپاس کی پیداوار 8.3 ملین گانٹھیں رہیں، چاول کی پیداوار 9.3 ملین میٹرک ٹن، گنے کی پیداوار 88.7 ملین میٹرک ٹن، گندم کی پیداوار 27.5 ملین سے کم ہوکر 26.4 ملین میٹرک ٹن رہ گئی۔

رواں مالی سال کے دوران ملک میں دودھ کی پیداوار 6 کروڑ 36 لاکھ 84 ہزار ٹن سے بڑھ کر 6 کروڑ 57 لاکھ 45 ہزار ہوگئی جبکہ انڈوں کی پیداوار بڑھ کر 22 ارب 51 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ گئی۔

مہنگائی 8.8 فیصد کے ہدف سے زیادہ رہی اور 11.3 فیصد مہنگائی ریکارڈ کی گئی۔

حکومت نے مالی سال 2021-22 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2021-22  کے دوران ملک میں 45 لاکھ 10 ہزار لوگ بے روزگار ہوئے، جب کہ ملک میں غربت کی شرح 6.3 فیصد رہی، غربت کی یہ شرح 2017-18 میں 5.8 فیصد تھی۔

مالی سال 2021-22ء  میں مہنگائی کا 8 فیصد ہدف پورا نہ کیا جا سکا اور شرح 13 فیصد سے زیادہ تک پہنچ گئی۔ معیشت کا حجم 383 ارب ڈالر جبکہ فی کس آمدن 1676 ڈالر سے بڑھ کر 1798 ڈالر ہوگئی۔

رواں مالی سال جاری کھاتوں کے خسارے کا ہدف 2 ارب 27 کروڑ 60 لاکھ ڈالر مقرر تھا جو جولائی تا اپریل کے دوران 13 ارب 80 کروڑ ڈالر پر پہنچ گیا۔

قومی اقتصادی سروے کے مطابق تجارتی خسارے کا ہدف 28 ارب 43 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھا جو 43ارب 33 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا۔

سرمایہ کاری 16.1 فیصد ہدف کے مقابلے میں 15.1 فیصد رہی، فکسڈ سرمایہ کاری کی شرح 13.4 فیصد رہی، قومی بچت 15.4 فیصد ہدف کے مقابلے میں 11.1 فیصد رہی۔

متعلقہ تحاریر