قوم کو ایک کپ چائے کا مشورہ اور احسن اقبال کا ویژن 2050
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے احسن اقبال 2050 کا ویژن دے کر ایک مرتبہ پھر قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور ترقی احسن اقبال پاکستانی عوام کو ایک کپ چائے کم پینے کا مشورہ دے کر ویژن 2050 کے تحت لمبی لمبی کانفرنس کا انعقاد کرنے جارہے ہیں ، جن کا حاصل وصول تو شائد سابقہ ویژینری پروگرامز جیسا ہو مگر ہاں ان کانفرنسز پر پیسہ خوب خرچ ہوگا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ احسن اقبال ایک مرتبہ پھر قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہے ہیں۔
وزارت منصوبہ بندی اور ترقی نے ملک کے موجودہ سماجی و اقتصادی مسائل کے حل اور قوم کو اکٹھا کرنے کے مقصد کے تحت ٹرن اراؤنڈ کانفرنس (TAC) کی میزبانی تیاری کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
فرانس نے پاکستان کے ذمے 107 ملین ڈالر کا قرضہ ری شیڈول کردیا
ان کانفرنسز کا مقصد قلیل مدتی نتائج حاصل کرنا ہوگا۔ ان کمپیکٹ آئیڈیاز کے تحت اگر مطلوبہ نتائج حاصل ہو جاتے ہیں تو انہیں طویل مدتی مقاصد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے ہفتہ کو جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ کانفرنس 28 جون کو کنونشن سینٹر میں منعقد ہوگی جس میں وزیر اعظم شہباز شریف مہمان خصوصی ہوں گے۔
کانفرنس کا بنیادی مقصد تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنا ہے جو ملک بھر سے ترقیاتی شعبے سے جڑے افراد کو ایک ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ’’مقصد ملکی معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے اقتصادی ترقی میں رکاوٹوں کو سمجھنا، سمجھانا اور حل تلاش کرنا ہے‘‘۔
ان کا کہنا تھا کہ "اس وقت پاکستان کو بہت سے بیرونی اور اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے جو کہ موجودہ سپر سائیکل اور جیو پولیٹیکل صورتحال کی وجہ سے مزید بڑھ گئے ہیں۔ چونکہ اقتصادی ترقی اور قومی ترقی کے لیے خاطر خواہ مواقع فراہم نہیں کیئے گئے ، اس لیے قلیل مدتی اقدامات ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے ایک محرک کا کام کر سکتے ہیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا پاکستان کا موجودہ سماجی و اقتصادی منظر نامہ معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے حکمت عملی پر مبنی حل پر زور دیتا ہے۔ اس لیے متنوع شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے وسیع اور جامع مشاورت سے معاشی دلدل سے نکلنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور ترقی کا کہنا تھا حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے اور ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے توازن کے بحران سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی ضروری قلیل مدتی اقدامات کیے ہیں۔ تاہم، حکومت کی توجہ وژن 2025 کے مطابق ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے درمیانی سے طویل مدتی حل نکالنا ہے۔









