چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے لیے ایک دن میں دو خوشخبریاں

الیکشن کمیشن نے محسن شاہنواز رانجھا کی عمران خان کو نااہل قرار دینے کی درخواست غیرموثر قرار دیتے ہوئے خارج کردی۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو بدھ کے روز دو خوشخبریاں ملیں، جب الیکشن کمیشن نے ان کے خلاف پی ڈی ایم کا توشہ خانہ ریفرنس غیرموثر قرار دے کر خارج کردیا جبکہ  لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے عمران خان کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 108 فیصل آباد سے ضمنی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی منظور کرتے ہوئے الیکشن لڑانے کی اجازت دے دی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چار رکنی بینچ نے چیف کمشنر راجہ سکندر سلطان کی سربراہی میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

شہباز گِل کا دوران حراست جسم کے نازک اعضا پر بجلی کے جھٹکے لگانے کا انکشاف

توہین عدالت جاری: سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود اے آر وائی نیوز نشریات بحال نہ ہوسکیں

عمران خان کے وکیل نے الیکشن کمیشن کے بینچ سے درخواست کی کہ پی ڈی ایم کے عمران خان کے خلاف ریفرنس کو غیرموثر قرار دیا جائے کیونکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کی اسی نوعیت کی درخواست پہلے ہی زیر سماعت ہے۔

الیکشن کمیشن نے دلائل سننے کے بعد  پی ڈی ایم کے رہنما محسن شاہ نواز رانجھا کی عمران خان کی نااہلی کے لئے دائر درخواست غیر موثر قرار دے کر خارج کردی۔

اسپیکر قومی اسمبلی کی توشہ خانہ کے حوالے سے دائر ریفرنس سماعت 29 اگست کو ہوگی۔

لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ایپلیٹ ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 108 فیصل آباد سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی منظور کرتے ہوئے انہیں ضمنی الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔

عمران خان کی درخواست میں   الیکشن کمیشن پاکستان اور ریٹرننگ افسر کو فریق بنایا گیا تھا۔اپیل میں استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن ٹریبونل ریٹرنگ افسر کا کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور این اے 108 سے الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔

اپیل کی سماعت کے موقع پر چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے۔

مسلم لیگ نواز کی امیدوار شذرہ منصب کے وکیل منصور عثمان نے ٹربیونل میں مؤقف اختیار کیا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 108کے لئے عمران خان کا حلف نامہ قانون کے مطابق اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ نہیں تھا، جس پر جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ حلف نامہ اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ نہ ہونے کی بنیاد پر کاغذات نامزدگی مسترد نہیں ہو سکتے۔

عمران خان کے مخالف وکیل کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے کہا گیا کہ 2021 کی ٹیکس ریٹرنز میں توشہ خانہ کی اشیا لکھی گئی ہیں جبکہ سال 2020 اور2019کی ریٹرنز میں کچھ نہیں لکھا گیا۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اس عرصے میں توشہ خانہ سے قیمتی اشیا نہ لی گئی ہوں، جس پر وکیل درخواست کنندہ نے کہا کہ 2019 اور 2020 میں توشہ خانہ سے لی گئی اشیا کی تفصیل منسلک کردی ہے، توشہ خانہ کی اشیا نہ لکھنے پر بھی عمران خان کا حلف نامہ ٹھیک نہیں۔

امیدوار کی ڈیکلریشن نامکمل یا غلط ہو تو کاغذات نامزدگی مسترد ہو سکتے ہیں، عمران خان نے اہلیہ کے چار اثاثے لکھے ہیں، عمران خان کی اہلیہ نے توشہ خانہ سے جو لیا وہ کاغذات نامزدگی میں نہیں لکھا، 56 لاکھ اور 33 لاکھ کی اشیا جو توشہ خانہ سے لی گئیں وہ نہیں لکھیں، میں نے ریکارڈ سے دکھایا ہے جس کے متعلق عمران خان کے وکیل سے سوال ہونا چاہیے کیونکہ اثاثے چھپائے گئے ہیں۔

وکیل منصور عثمان نے مزید کہا کہ عمران خان کی اہلیہ نے مارچ 2020 تا جون 2021 کے دوران توشہ خانہ سے ایک کروڑ 20 لاکھ کی اشیا خریدیں۔

جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا اس ٹربیونل کو ان معاملات کی انکوائری کرنی ہے؟ جس پر وکیل منصور عثمان نے کہا کہ نہیں ہم انکوائری نہیں چاہ رہے لیکن توشہ خانہ سے خریدے گئے تحائف اگر فروخت کیے تو رقم عمران کی اہلیہ کے اکاؤنٹ میں ظاہر ہونی چاہیے۔

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ان تحائف کو عطیہ کر دیا ہو، ایسی صورت میں اس کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر کرنا لازم نہیں ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین کے وکیل کے دلائل سننے بعد ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے عمران خان کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔

قومی اسمبلی کی خالی 9 نشستوں پر براہ راست ضمنی انتخابات 25 ستمبر کو ہوں گے۔

17 اگست کو قومی اسمبلی کے حلقے این اے-108 فیصل آباد کے ریٹرننگ افسر نے اثاثوں کی تفصیل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ضمنی انتخاب کے لیے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے۔

متعلقہ تحاریر