ایران میں 15 ہزار مظاہرین کو پھانسی دینے کی منظوری، عشنا شاہ امریکا پر پھٹ پڑیں
باغیوں کو سخت سبق دینے کی ضرورت ہے،ایرانی پارلیمنٹ نے قرار 63 کے مقابلے میں 227 ووٹوں سے منظور کرلی: تہران کی عدالت نے پہلے شخص کو سزائے موت سنادی، 5 افراد کو قید، جب آپ کو ضرورت ہے تو امریکی مداخلت کہاں ہے؟ عشنا شاہ

ایرانی حکومت اور ارکان پارلیمنٹ نے حجاب اور حکومت مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والے 15 ہزار افراد کو پھانسی دینے کی منظوری دے دی۔
اداکارہ عشنا شاہ نے ایرانی مظاہرین پر مظالم کیخلاف مداخلت نہ کرنے پر امریکا کو تنقید کانشانہ بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
حجاب مخالف احتجاج : ایرانی پولیس نے 250 افراد کی جان لے لی، 14 ہزار گرفتار
ایران میں احتجاج میں مزید شدت، امام خمینی کی تصاویر اسکولز سے ہٹائی جانے لگیں
ایران میں ستمبر کے مہینے میں اخلاقی پولیس’گشت ارشاد ‘کے ہاتھوں اسکارف نہ پہننے پر گرفتاری کے بعد مبینہ تشدد سے 22 سالہ کرد خاتون مہیساامینی کی ہلاکت کے خلاف ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔
ایرانی ہیومن رائٹس کے مطابق مظاہرین کیخلاف ظالمانہ حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 43بچوں اور 25خواتین سمیت 326مظاہرین جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
This is horrifying. The Iranian parliament votes overwhelmingly (227-63) to execute the 15,000 protesters they already arrested.
These were peaceful protestors simply seeking the right to basic justice and autonomy. Unacceptable and barbaric.https://t.co/7mMd2hIwTb
— Qasim Rashid, Esq. (@QasimRashid) November 14, 2022
امریکی نیوزویک میگزین کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ نے15ہزار گرفتار مظاہرین کیخلاف سمری ٹرائل اور پھانسی دینے کی منظوری دے دی ہے ۔ ایرانی پارلیمنٹ میں مظاہرین کو پھانسی کی قرارداد 63کے مقابلے میں 227ووٹوں سے منظور کرلی گئی ۔ایرانی پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ باغیوں کو سخت سبق دینے کی ضرورت ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق تہران میں انقلابی عدالت نے مظاہروں میں شرکت کے دوران سرکاری املاک کو نذرآتش کرنے کے الزام میں پہلے شخص کو سزائے موت سنادی ہے۔
سرکاری میڈیاکے مطابق انقلابی عدالت کی جانب سے سزائے موت پانے والے شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تاہم عدالت نے اسے”خدا کا دشمن “دیا ہے۔ ایک اور عدالت نے قومی سلامتی اور امن عامہ کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں پانچ افراد کو5 سے 10 سال کے درمیان قید کی سزا سنائی۔
انسانی حقوق کے ایک گروپ نے خبردار کیا ہے کہ حکام جلدی پھانسی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ناروے میں مقیم ایران ہیومن رائٹس نے سرکاری رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کم از کم 20 افراد کو اس وقت سزائے موت کے الزامات کا سامنا ہے۔
Where is American intervention when you need it? #Iran
— Ushna Shah (@ushnashah) November 14, 2022
ادھر اداکارہ عشنا شاہ نے ایران میں جاری حکومتی مظالم کیخلاف مداخلت نہ کرنے پر امریکی حکومت کو تنقید کانشانہ بنایا ہے۔عشنا شاہ نے اپنے ٹوئٹ میں لکھاکہ جب آپ کو ضرورت ہے تو امریکی مداخلت کہاں ہے؟









