قومی کفایت شعاری کمیٹی نے 1000 ارب روپے بچانے کا نسخہ دے دیا

موجودہ حکومت کی جانب سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کو بچانے کے لیے قائم کی گئی کفایت شعاری کمیٹی نے غیر جنگی دفاعی بجٹ میں 15 فیصد کٹوتی کی سفارش کی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے تشکیل دی گئی قومی کفایت شعاری کمیٹی نے سفارشات پر مبنی مراسلہ پرائم منسٹر ہاؤس کو ارسال کردیا ہے۔

قومی کفایت شعاری کمیٹی نے موقف اختیار کیا ہے کہ گوکہ شفارشات پر عمل درآمد کرنا مشکل ہوگا ، تاہم عوامی ٹیکس سے جمع ہونے والے محصولات کو بچانے کی خاطر اور ملک کے مالی حالات کے پیش نظر یہ ضروری ہے ، کفایت شعاری کی کوششوں میں معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

ملک پہلے رشتے داریاں بعد میں، عاطف میاں کا حکومت کو مشورہ

این اے 62 سے شیخ رشید کے کاغذات نامزدگی منظور

کمیٹی کی کئی سفارشات پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جانا بہت ضروری ہے ، جبکہ سفارشات کی دیگر شقوں پر درمیانی مدت میں لاگو کرنے کی ضرورت ہوگی۔

موجودہ حکومت کی جانب سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کو بچانے کے لیے قائم کی گئی کفایت شعاری کمیٹی نے غیر جنگی دفاعی بجٹ میں 15 فیصد کٹوتی کی سفارش کی ہے۔

قومی کفایت شعاری کمیٹی نے درجہ ذیل سفارشات پر سب سے زیادہ فوکس کیا ہے۔

محصولے خاص( Subsidies)

قومی کفایت شعاری کمیٹی نے سبسڈیز کی مد میں دی جانے والی سبسڈی میں 200 ارب روپے کی سفارش کی ہے۔

ترقیاتی اخراجات( Development )

قومی کفایت شعاری کمیٹی نے ترقیاتی اخراجات میں 200 ارب روپے کم کرنے کی سفارش کی ہے۔

حکومتی اخراجات (Running of Civil Government )

قومی کفایت شعاری کمیٹی نے حکومتی اخراجات میں 55 ارب روپے کم کرنے کی سفارش کی ہے۔

صوابدیدی اخراجات (Single Treasury Account )

قومی کفایت شعاری کمیٹی نے صوابدیدی فنڈز میں 60 سے 70 ارب روپے کمی کرنے کی سفارش کی ہے

تحفظ پر خرچ ہونے والے اخراجات (Conservation measures )

قومی کفایت شعاری کمیٹی نے حکومتی اہلکاروں کے تحفظ پر خرچ ہونے والے اخراجات میں 100 ارب روپے کمی کرنے کی سفارش کی ہے۔

غیر ترقیاتی اخرات Non Strategic SOEs (savings from

divestment)

قومی کفایت شعاری کمیٹی نے مختلف جاری ترقیاتی اسکیموں سے 174 ارب روپے بچانے کی سفارش کی گئی ہے

دفاعی اخراجات (Defence)

موجودہ حکومت کی جانب سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کو بچانے کے لیے قائم کی گئی کفایت شعاری کمیٹی نے غیر جنگی دفاعی بجٹ میں 15 فیصد کٹوتی کی سفارش کی ہے۔

آخری الفاظ

کفایت شعاری کمیٹی کا موقف ہے کہ سفارشات پر عمل درآمد مشکل ہوگا۔ تاہم، ملک کے مالی حالات کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات ، خاص طور پر جن کو عوامی فنڈز سے ادائیگیاں کی جاتی ہیں ، کفایت شعاری کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالیں۔ کمیٹی کی بہت سی سفارشات کو فوری طور پر نافذ کیا جانا بہت ضروری ہے ، جبکہ دیگر کو درمیانی مدت میں لاگو کرنے کی ضرورت ہوگی۔

متعلقہ تحاریر