پی ٹی آئی کی جنرل باجوہ کے خلاف آئی پی یو میں پٹیشن سماعت کیلئے تسلیم کرلی گئی

پی ٹی آئی نے سینیٹر اعظم سواتی پر تشدد اور جنسی زیادتی کے خلاف بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، میجر جنرل فیصل نصیر اور سیکٹر کمانڈر فہیم رضا کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی جسے سماعت کے لیے تسلیم کرلیا گیا ہے  

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ بین الپارلیمانی یونین کی کمیٹی برائے انسانی حقوق (آئی پی یو ) نے سینیٹر اعظم سواتی کے کیس کی سماعت کے لیے درخواست قبول کرلی ہے۔

تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کی جانب سے سینیٹر اعظم سواتی کے کیس سے متعلق  بین الپارلیمانی یونین کی کمیٹی برائے انسانی حقوق (آئی پی یو ) میں دائر درخواست  تسلیم کرلی گئی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کا عمران خان سے ملاقاتوں کی گفتگو ریکارڈ کرنے کا اعتراف

پی ٹی آئی نے گزشتہ سال دسمبر میں اعظم سواتی پر غیرانسانی تشدد کے کیس کی سماعت کے لیے آئی پی یو میں ایک پٹیشن دائر کی تھی جس میں جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کا نام بھی شامل ہے ۔

آئی پی یو نے اعظم سواتی کی درخواست میں سابق آرمی چیف جنرل  قمر جاوید باجوہ، میجر جنرل فیصل نصیر اور سیکٹر کمانڈر فہیم رضا سمیت سیکیورٹی فورسز کے دیگر اعلیٰ حکام کےنام شامل ہیں۔

پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ایک ٹھریڈ میں کہا گیا ہے کہ  سینیٹر اعظم سواتی نے الزام لگایا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت حکومت اور عسکری قیادت نے مظالم کیے ہیں۔

آئی پی یو میں دائر پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ فوج کی سیاست میں مداخلت کے خلاف ٹوئٹ کرنے پر اعظم سواتی کوگزشتہ سال 13 اکتوبر مسلح  افراد کے ایک گروپ نے اغوا کر لیا تھا۔

سادہ لباس میں میں ملبوس وفاقی ایجنسی ایف آئی کے اہلکاروں نے اعظم سواتی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے جبکہ ان  کو جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا ۔

شکایت کنندہ کے مطابق،سواتی کو ضمانت پر رہائی کے بعد عسکری قیادت کی جانب سے دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے جبکہ انکی قابل اعتراض وڈیو  ان کے اہلخانہ کو بھیجی گئیں۔

واضح رہے کہ بین الپارلیمانی یونین  اقوام عالم کی پارلیمنٹس کی تنظیم ہے۔ اس کا بنیادی مقصد جمہوری طرز حکمرانی، جوابدہی اور اپنے اراکین کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔

متعلقہ تحاریر