ملک بھر میں پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز آج سے ہوگیا

ڈیجیٹل مردم شماری کے لیے ایک لاکھ 21 ہزار افراد کو پورے پاکستان میں تربیت دی گئی ہے۔ ایک لاکھ 26 ہزار الیکٹرانک ڈیوائسز اس مردم شماری میں استعمال ہونگی۔

یکم مارچ سے ملک بھر میں ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز ہو گیا ہے،13 جنوری 2022 کو مشترکہ مفادات کونسل نے ڈیجیٹل مردم شماری کرانے کا حکم دیا تھا۔

چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر نے یکم مارچ سے ڈیجٹل مردم شماری کا آغاز کردیا ہے۔ ملک بھر میں عمارتوں اور افراد کا شمار کیا جائے گا۔

نعیم الظفر کے مطابق مردم شماری کے حوالے سے تمام صوبوں کو آن بورڈ لیا گیا۔ ایک ماہ بعد قوم کو مردم شماری کے اعدادوشمار کے نتائج دیئے جائیں گے۔ اب جیوٹیگ اور معاشی شماری میں مدد ملے گی۔ تاکہ اس سے بہتر منصوبہ بندی کی جا سکے ۔ ایک لاکھ 15 ہزار افراد پر مشتمل عملہ مردم شماری کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے  

سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 90 روز میں انتخابات کرانے کا حکم دے دیا

اسلام آباد میں افراد کی سوداگری کی روک تھام کے لیے دو کانفرنس کا انعقاد

ترجمان شماریات ڈویژن سرور گوندل کے مطابق اس سلسلے میں پریس کانفرنس اب روزانہ کی بنیاد پر ہوگی، حکومت نے ایک کمیٹی بنائی تھی اور ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن کمیٹی کے سربراہ تھے۔

کمیٹی نے ساتویں مردم شماری کے طریقہ کار کو وضع کرنا تھا ۔ گزشتہ کئی عرصے سے مردم شماری پر کام شروع کیا گیا، ایک  لاکھ 21 ہزار افراد کو پورے پاکستان میں تربیت دی گئی ہے۔  ایک لاکھ 26 ہزار الیکٹرانک ڈیوائسز اس مردم شماری میں استعمال ہونگی۔

پورے ملک میں 495 مردم شماری سپورٹ سینٹر بنائے گئے ہیں، سافٹ ویئر اور الیکٹرانک ڈیوائسز میں خرابی آنے پر نادرا معاونت فراہم کرے گا، 20 فروری کو خودشماری پورٹل کا افتتاح ہوچکا ہے۔

اس وقت پورٹل دستیاب ہے اور وہاں جاکر خود شماری کی جاسکتی ہے، خود شماری کا سادہ سا طریقہ کار ہے۔

ترجمان شماریات ڈویژن سرور گوندل کے مطابق صوبائی حکومتوں نے شمار کنندگان کی تعیناتی کردی ہے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں شمار کنندگان کی تعیناتی کردی گئی ہے، ہر شمار کنندہ کے ساتھ پولیس کا ایک اہلکار ہوگا اور آرمڈ فورسز کا تعاون بھی حاصل ہوگا۔

سرور گوندل کے مطابق یکم مارچ سے فیلڈ آپریشنز شروع کردیا گیا ہے ، پہلے 15 دن ایک بلاک اور اگلے 15 دن میں دوسرا بلاک شمار ہوگا، اسٹیک ہولڈرز اور سروس پرووائڈرز کا تعاون ہمیں حاصل ہے، این ٹی سی کا تعاون بھی ہمیں حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ یکم اپریل کو دوسرا مرحلہ ختم ہوگا اور ڈیٹا کا جائزہ لیا جائے گا، 30 اپریل تک مردم شماری کے نتائج جمع کرانے کی تاریخ دی گئی ہے، مشترکہ مفادات کونسل کے پاس اختیار ہے اس ڈیٹا کی منظوری دی جائے، مردم و خانہ شماری کیلئے 37 ورکنگ گروپس بنائے گئے ہیں، 43 لاکھ افراد خودشماری پورٹل پر آ گئے ہیں ، جیو ٹیگنگ کے ذریعے 33 انڈیکٹرز پر ڈیٹا اکھٹا کیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق حکومت نے مردم و خانہ شماری کیلئے 10 ارب روپے جاری کردئیے ہیں، 34 ارب روپے کے کل اخراجات ہیں اور 24 ارب روپے کا کیس ای سی سی میں ہے، فنڈز کے معاملے پر کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اس میں صوبائی حکومتیں بھی کام کررہی ہیں، عالمی مروجہ طریقہ کار کے مطابق شماریات ڈویژن مردم شماری کررہا ہے، تمام صوبوں اور مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بعد کام شروع کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل میں تمام وزرائے اعلٰی تھے ان کو طریقہ پر کوئی اعتراض نہیں تھا، مردم شماری کیلئے سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کئے گئے ہیں، صوبوں کے ساتھ مل کر سیکیورٹی کے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شماریات کا ادارہ اپنا ایک وجود رکھتا ہے، حکومت اس ادارے پر اثرانداز نہیں ہوسکتی ہے، ہمارے اعدادوشمار پر عالمی ادارے یقین کرتے ہیں، کسی آئین اور قانون میں مردم شماری کو 10 سال بعد کرنے کا ذکر نہیں ہے، دنیا میں پانچ سالوں بعد بھی مردم شماری ہوتی ہے، حکومت نے ہمارے ساتھ کمٹمنٹ کی ہے کہ 24 ارب روپے ہمیں دے گی، حکومت اپنی کمٹمنٹس پوری کرتی ہے۔

متعلقہ تحاریر