اعظم نذیر تارڑ دور کی کوڑی لائے ، 5 رکنی دستخطوں والے فیصلے کو 7 رکنی قرار دے دیا

وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ پٹیشنز چار تین سے مسترد ہوگئی ہیں کیونکہ چار معزز جج صاحبان لکھتے ہیں کہ یہ پٹیشنز قابل سماعت نہیں۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آج آئینی اور قانونی گفتگو کی جائے گی ، جبکہ اٹارنی جنرل شہزاد عطاء الہیٰ نے کہا ہے کہ بہت تفصیلی پروسیڈنگ ہوئی جس میں ہم نے پورا تعاون بھی کیا ، کیس شروع ہوا تو بینج کے 9 ممبران تھے۔

ان خیالات کا اظہار اٹارنی جنرل آف پاکستان شہزاد عطاء الہیٰ اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ شہزاد عطاء الہیٰ کا کہنا تھا کہ 23 فروری کو جسٹس یحیٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ نے اختلافی نوٹ لکھ دیا تھا ، انہوں نے اپنے تحریری نوٹ میں ان دو پٹیشنز کو ڈس مس کردیا تھا ، (جو پٹیشنز پنجاب اور کےپی اسپیکرز کی جانب سے سپریم کورٹ میں دی گئی تھیں)۔ پھر چار ممبران بینچ سے الگ ہوگئے ، آج جو فیصلہ آیا ہے کہ 3 اور 2 کے فرق سے آیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھا جبکہ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظہر علی نے پٹیشنز کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

صحافیوں پر تشدد؛ رانا ثناا ور آئی جی ذمہ دار، پارلیمانی رپورٹرز کا اندراج مقدمہ کا مطالبہ

اسد عمر ، علی نواز اعوان اور راجہ خرم نواز کے استعفوں کا نوٹی فیکیشن معطل

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا فیصلے کے مطابق 23 فروری کو 4 ججز نے پٹیشنز کا ڈس من کیا اور آج بھی دو ججز نے پٹیشنز کا ڈس من کیا ہے۔

میڈیا کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ کیس کسی کی ہار جیت کا کیس نہیں تھا ، اصل میں یہ کیس صرف آئینی نکتے کو واضح کرنے کا کیس تھا ، اس کیس میں جن دو ججز کی طرف سے ری ویو پٹیشن چیف جسٹس کو بھیجی  گئی تھی ، ان پر سیاسی جماعتوں اور پاکستان بار کونسل کی جانب سے اعتراضات اٹھائے گئے۔ جس کے بعد ان ججز نے رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو بینچ سے الگ کرلیا۔ میں ان کے فیصلے کو سراہتا ہوں۔ کیونکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ان ججز کے بعد مزید دو جج صاحبان نے مینٹین بیلیٹی کی بنیاد یہ کہا ہے کہ ہم ان پٹیشنز کو خارج کرنے کی درخواست کرتے ہیں ، اور کیس سے رضاکارانہ طور پر الگ ہو گئے۔ ججز کا کہنا تھا کہ اس کیس میں موسوٹو کا ایکشن نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ معاملہ ہائی کورٹس میں پینڈنگ ہے۔ بعدازاں دیگر پانچ ججز نے کیس کی پروسیڈنگ کا آگے بڑھایا۔ آج کے فیصلے میں تین ججز نے کہا ہے کہ پروسیڈنگ مینٹین ایبل ہیں ، اٹارنی جنرل نے دوران سماعت دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 254 ہے جوکہ یہ کہتا ہے کہ اگر آئین کے تحت کسی ایک چیز کو مقررہ وقت میں ہونا ہے اور وہ چیز اس مقررہ وقت پر نہیں ہوتی ، تو اس وجہ سے وہ غیرآئینی نہیں ہوگا ، یعنی انتخابات 90 دن میں نہیں ہوئے۔ اور آج کے فیصلے میں جج صاحبان نے زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے کہا کہ گورنر اور ای سی پی یا صدر اور ای سی پی مشاورت سے تاریخ دیں۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آج کے فیصلے میں دو ججز نے 23 فروری کو دو ججز کے فیصلے کو انڈوز کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ پٹیشنز چار تین سے مسترد ہوگئی ہیں کیونکہ چار معزز جج صاحبان لکھتے ہیں کہ یہ پٹیشنز قابل سماعت نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ میں معذرت کے ساتھ کہنا کہ صدر مملکت آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جنہوں نے ایک فیصلہ کرکے اسے واپس لیا ، پھر ان کے وکیل نے اعلیٰ ظزفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت میں تسلیم کیا کہ میرے موکل نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ صدر مملکت ایک آئینی عہدہ ہے اس لیے انہیں آئین کے تحت کام کرنے چاہئیں ، مگر انہوں نے پارٹی ورکر کے طور پر کام کیا۔ پاکستان کی شہری کی حیثیت سے یہ بات میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔

متعلقہ تحاریر