وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا عمران خان پر تنقید سے بھرپور خطاب
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نیازی 2014 سے ملک میں افراتفری، انارکی اور بحرانی صورتحال پیدا کرنا چاہتا ہے۔ پہلے 126 دن کا دھرنا دیا گیا اور اب لانگ مارچ اور احتجاجی جلسوں کے علاوہ کوئی کام نہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے مشترکہ اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا پارلیمنٹ ایک ایسا ادارہ ہے جسے مادر آف انسٹی ٹیوشن کہا جاتا ہے۔ قوم کی راہنمائی اسی ادارے کی زمہ داری ہے۔ تمام اداروں کا اپنا اپنا ڈومین ہے۔ تمام اداروں کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں لیکن دیگر تمام اداروں کے اختیارات پارلیمنٹ کے مرہون منت ہیں۔ پارلیمنٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ یہ آئین میں ترمیم کر سکتا ہے۔
مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ کسی کے اختیارات بڑھا بھی سکتا ہے اور کم بھی کر سکتا ہے۔ آج ہمیں تین بنیادی نکات پر راہنمائی کی ضرورت ہے۔ اس وقت ملک میں سیاسی ، انتظامی اور عدالتی بحران نہ صرف پیدا کیا جا رہا ہے بلکہ اس میں آئے دن اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ایک جتھہ اور چند لوگ اس برائی کی جڑ ہیں۔ آج حالات خراب نہیں ہیں لیکن خراب کئے ضرور جا رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کو انتخابات کے حوالے سے بھی قوم کی راہنمائی کرنی ہو گی۔
یہ بھی پڑھیے
سابق وزیراعظم عمران خان نے پولیس مقابلے میں اپنے قتل کے خدشات ظاہر کردیئے
ممنوعہ فنڈنگ کیس: عمران خان کی ضمانت منسوخی کیلئے ایف آئی اے کی درخواست مسترد
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں موجود معاشی بحران پر بھی راہنمائی کی ضرورت ہے۔ یہ بحران نہ تھا نہ ہے ہر روز کوشش کی جاتی ہے کہ ملک میں بحران پیدا کیا جائے۔ ایک جماعت جس کا لیڈر عمران خان نیازی ہے وہ 2014 سے ملک میں افراتفری، انارکی اور بحرانی صورتحال پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ پہلے 126 دن کا دھرنا دیا گیا اس میں جو زبان استعمال کی گئی مجھے وہ دہرانے کی ضرورت نہیں۔ کبھی لانگ مارچ کبھی احتجاجی جلسے، اس شخص نے 2014 سے لیکر اب تک کوئی ایک ہفتہ بھی آرام سے نہیں گزارا۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ 2018 میں کچھ قوتوں نے انتخابات کو رگ کیا اور انہیں بر سر اقتدار لایا گیا۔ اس کے بعد کم و بیش چار سال اس نے حکومت میں بیٹھ کر اپوزیشن پر تیر برسائے۔ اپوزیشن لیڈر کو اسی ایواں میں کہا گیا کہ معاشی حالات کی بہتری کیلئے چارٹر آف اکانومی کا کہا گیا۔ بلاول بھٹو نے اس پر گرین سگنل دیا تو یہ شخص چور ڈاکو اور پتہ نہیں کیا کیا نہیں کہہ گیا۔ جھوٹے کیسز بنائے گئے، نیب کو استعمال کیا گیا، نیب چیئرمین نے انکار کیا تو اس کی ویڈیو لیک کرائی گئی۔ آج ویڈیوز لیک پر ڈھنڈورا پیٹنے والے یہ نہیں بتا رہا کہ ان کے دور میں ایسا کیوں ہوتا رہا۔ انہیں ویڈیوز کے تحت چیئرمین نیب کو بلیک میل کر کے اپوزیشن کے خلاف جھوٹے کیسز بنائے گئے۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر روز بیٹھ کر جس قسم کی گفتگو کرتا تھا کوئی برداشت نہیں کرتا تھا۔ آن ہونے چار سالوں میں ملک کی معیشت کو بیڑا غرق ہوا۔ اس جہان مہنگائی پہنچی ہے جہاں ڈالر پہنچا ہے اس میں موجودہ حکومت نے ۔ ماسوائے آئی ایم ایف کی شرائط کے وہ بھی اس لئے کہ جاتے جاتے آئی ایم ایف سے کی گئی زبان سے مکر گئے اب آئی ایم ایف پہلے اپنی شرائط پر عمل درآمد مانگ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے گیارہ ماہ میں انہوں نے سیاسی ، انتظامی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہ فتنہ ہے یہ فساد ہے انہی ا سکے علاؤہ کوئی کام نہیں اتا۔ آج قوم نے اس کا ادراک نہیں کیا تو یہ ملک کو حادثہ دوبار کر دے گا۔ ہٹلر بھی بڑی جوشیلی تقریریں کرتا تھا اس وقت لوگوں نے تب بھی کہا۔ مگر عوام نے سمجھنے میں دیر کر دی۔ آج ہٹلر کا کوئی نام لینے والا نہںں۔ گیارہ ماہ سے امریکن سائفر، امپورٹڈ حکومت کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ 176 ووٹ لیکر وزیر اعظم بننے والے امپورٹڈ کہا گہا۔ اس کے احتجاج چلتا رہا، میں آؤں گا شہر کو سیل کر دوں کا ، اسلام آباد کو بند کر دوں گا جب تک نہیں جاؤں گا جب الیکشن کا اعلان نہیں کر دیا جاتا۔
انہوں نے اس موقع پر دہشت گردی کے واقع میں پاک فوج کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاک آرمی کا ہی طرہ امتیاز ہے کہ اسکے آفیسرز فرنٹ سے لیڈ کرتے ہیں ۔ پاک آرمی کے نہ صرف جوان بلکہ افسران نے بھی دہشت گردی کے خلاف آپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔









