پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات: سپریم کورٹ معاملہ سلجھانے کے لیے روزانہ سماعت کرے گی
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت اور تحریک انصاف یقین دہانی کرائے کہ وہ صاف و شفاف انتخابات چاہتے ہیں یا نہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواستوں سماعت ہوئی ہے ، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے 5 رکنی لارجر بینچ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات ملتوی کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے حکومت اور تحریک انصاف سے یقین دہانی طلب کرلی۔
یہ بھی پڑھیے
چیئرمین تحریک انصاف کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ سے منظور
امپورٹڈ حکومت پاکستان کو لندن سے چلارہی ہے، فواد چوہدری
دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ فریقین آپس میں دست و گریباں ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت اور تحریک انصاف یقین دہانی کرائے کہ وہ صاف و شفاف انتخابات چاہتے ہیں یا نہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا ہم ہوا میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ، جب تک تمام فریقین راضی نہ ہوں۔ آئین کی تشریح حکومت بنانے یا گرانے کے لیے نہیں ہوتی۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے وفاق ، خیبر پختونخوا ، پنجاب ، دونوں صوبوں کے گورنرز اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو نوٹسز جاری کرکے کل تک جواب طلب کرلیا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ عدالت روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرے گا۔
دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ یہ اہم آئینی معاملہ ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات سے متعلق تاخیر کی جارہی ہے۔
بیرسٹر ظفر علی کا کہنا تھا کہ تین بنیادی احکامات کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔ انتخابات ملتوی کرکے آئین پاکستان کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ، سپریم کورٹ آف پاکستان کے یکم مارچ کے احکامات کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ، صدر پاکستان کی طرف سے انتخابات کے تاریخ کے اعلان کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
اس لیے ہماری سپریم کورٹ آف پاکستان سے استدعا ہے کہ عدالت الیکشن کمیشن سے اپنے احکامات پر عمل درآمد کرائے۔ اور ممکن بنائے کہ 30 اپریل کو ہی پنجاب اور کےپی میں انتخابات کرائے جائیں۔
اس موقع پر جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ آپ حکم پر عمل درآمد چاہتے ہیں ، تو اس کے لیے بہترین فارم تو ہائی کورٹ ہے۔ آپ براہ راست سپریم کورٹ کیوں آئے ہیں۔
اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ یہ اہم آئینی اور قانونی مسئلہ ہے ، یہ دونوں صوبوں کے شہریوں کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ لہذا اس میں عدالت نے فیصلہ کرنا ہے، کہ کیا یہ معاملہ سپریم کورٹ نے طے کرنا ہے کہ اُس نے اِس کیس کو سننا ہے یا ہائی کورٹ نے۔
جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدر مملکت کے ساتھ مشاورت کے بعد تاریخ دی تھی۔









