سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل 2023 قائمہ کمیٹی سے متفقہ طور پر منظور
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ قانون کی منظوری کےبعد سپریم کورٹ میں زیرسماعت ازخود نوٹسز میں اپیل کا حق مل جائے گا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل 2023 متفقہ طور پر منظور کرلیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اہم اجلاس ہوا۔ جس میں سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل 2023 پیش کیا گیا۔ جسے کل وفاقی کابینہ سے منظور کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ قانون کی منظوری کےبعد سپریم کورٹ میں زیرسماعت ازخود نوٹسز میں اپیل کا حق مل جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی سیکورٹی: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ سے جواب مانگ لیا
فاٹف کے بعد بڑی کامیابی، پاکستان یورپی یونین کی ہائی رسک فہرست سے نکل گیا
وزیر قانون کا کہنا تھا قانون منظور ہونے سے قبل 30 دنوں میں جن ازخود نوٹسز کے فیصلے ہوئے ان پر بھی اپیل کا حق مل جائے گا۔
قائمہ کمیٹی میں سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل 2023 پر تین ترامیم پیش کی گئی تھیں۔ ان ترامیم کو بھی بل میں شامل کرلیا گیا ہے۔
اب قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل 2023 ترامیم کے ساتھ متفقہ طور پر منظور کرلیا ہے۔
بل میں یہ ترمیم بھی شامل کی گئی کہ آئین کی تشریح کے لیے مقدمات کی سماعت کے لیے 5 سے کم ججز پر مشتمل بینچ تشکیل نہیں دیا جائےگا۔









