نوازشریف نے پریس کانفرنس میں پوری رام لیلا سنادی مگر واپسی کی تاریخ نہیں دی

مٹھی بھر جج قوم پر اپنی مرضی مسلط کر رہے ہیں، اگر بینچ قابل قبول نہیں تو پھر ہم اس کے فیصلے کو کیسے مان سکتے ہیں؟فل کورٹ سب کیلیے قابل قبول ہوگا، سابق وزیراعظم نے3 رکنی بینچ کو سلیکٹڈ ازخود نوٹس بینچ کا نام دیدیا

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں  نواز شریف نےگزشتہ روز ہنگامی پریس کانفرنس میں عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے3رکنی بینچ کو سلیکڈازخود نوٹس بینچ کا نام دیدیا۔ سابق وزیراعظم نے  خود پر ہونے والے”مظالم “کی پوری رام لیلا سنادی مگرواپس کی تاریخ نہیں دی۔

اسٹین ہاپ ہاؤس میں منعقدہ ایک غیر معمولی پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعظم نے موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کے ساتھ ساتھ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو  بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ”سب کے درمیان“ اتفاق رائے ہے کہ الیکشن کیس میں  فل کورٹ کو سماعت کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان تحریک انصاف عدلیہ کے دفاع میں سامنے آگئی

ن لیگ 1997 کی طرح چیف جسٹس کو دھمکا رہی ہے، عمران خان

انہوں نے واضح کیا کہ ”تمام سیاسی جماعتوں کا یہ مطالبہ ہے  ، حکومت یہ چاہتی ہے، بار ایسوسی ایشنز یہ چاہتی ہیں، پارلیمنٹ نے اپنی مرضی کا اظہار کیا اور اپنا بل بھی پاس کیا،اب یہ صدر کے پاس ہے… پارلیمنٹ ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے، اس کے تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے“۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہاکہ” حتیٰ  کہ ججوں کی اکثریت نے ہر طرح سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے،اسی طرح سول سوسائٹی بھی یہی چاہتی ہے  ۔ پھر یہ ضد کیوں؟ بینچ میں صرف تین ججز ہونے کا اصرار کیوں؟ یہ ایک قومی مسئلہ ہے، ایک ٹرک، ٹھیلے یا پلاٹ خالی کرنے کا مسئلہ نہیں۔ صرف یہ تین جج کیوں؟  انہوں نے الزام لگایا کہ ’’ہر معاملے میں یہ تین لوگ ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ 2017 میں بھی ایسا ہی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس نے پاکستان کو ایک ایسے موڑ پر پہنچا دیا  جہاں اس کا مستقبل تاریک ہو گیا ، حالانکہ ان کے دور میں معاشی صورتحال مختلف تھی۔

2017 میں، سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو پاناما پیپرز سے منسلک کرپشن کی تحقیقات کے دوران اپنے اثاثوں کے بارے میں غلط بیانی کرنے پر   عہدے سے نااہل قرار دیا تھا۔

انہوں نے اپنے دور میں ڈالر کی کم شرح، چینی، اشیائے ضروریہ  اور ادویات کی قیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ”میں اپنی عوام سے اپیل کرتا ہوں  کہ آنکھیں کھولو،یہ ایک ظالمانہ مذاق ہے،2017میں کیا آپ  خوش نہیں تھے؟ آپ کا پیٹ بھرا ہوا تھا، آپ کے اہلخانہ مطمئن تھے،2017 کےبعد کیا صورتحال ہوگئی؟“۔

نوازشریف نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ”آپ  (ججز)ایک آدمی کے لیے فیصلے دے رہے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی جسٹس شوکت صدیقی کی باتوں پر ازخود نوٹس  لیا؟ یا سابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے کیا کہا؟ کیا یہ ازخود نوٹس کی ضمانت نہیں دیتا کہ نواز شریف کے ساتھ ناانصافی کی گئی؟“۔

انہوں نے الزام لگایا کہ” مٹھی بھر جج قوم پر اپنی مرضی مسلط کر رہے ہیں۔ اگر اتنے تحفظات ہیں، اگر بینچ قابل قبول نہیں تو پھر ہم اس کے فیصلے کو کیسے مان سکتے ہیں؟ لیکن فل کورٹ  سب کے لیے قابل قبول ہوگا،اس کے پیچھے کیا ہچکچاہٹ ہے؟“۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی جج نے خود کو الگ کیا تو بھی وہ اس بینچ میں ہیں۔ تین رکنی بینچ کے ساتھ سینئر ججوں کے خیالات میں اختلاف سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ” کیا سارے فیصلے اور بینچ عمران خان کے لیے ہیں؟“۔

سپریم کورٹ کی جمعہ کی کارروائی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر نواز شریف نے کہا کہ” میں نے یہ بھی سنا کہ چیف جسٹس کی آنکھوں میں آنسو تھے، اگر یہ خوف خدا سے ہیں تو یہ خوش آئند خبر ہے، میں مزید کچھ نہیں کہہ سکتا “۔

جسٹس مظاہر علی نقوی کے بارے میں نواز  شریف نے کہاکہ” ان کا کیس سپریم جوڈیشل کونسل میں جانا چاہیے۔انہوں نے  جو کچھ کہا ہے اس کے  شواہد موجود ہیں ،مکمل آڈیو اور ویڈیو لیک ہیں – یہ احتساب کا ایک موزوں کیس ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آدمی اپنے دوستوں سے پہچاناجاتا ہے ، ہماری عدالتوں اور ججوں کو صرف اللہ ہی بچا سکتا ہے ‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ان پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے بجائے برطرف کر دیا گیا، اگر انصاف کا یہی معیار ہے تو خدا ہمارے نظام عدل کو بچائے۔

متعلقہ تحاریر