پی ڈی ایم نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کردیا

وزیراعظم کے زیر صدارت اجلاس میں تقاضا کیا گیا کہ ازخود نوٹس نمبر 1/2023 کے چار رکنی اکثریتی فیصلے کو مانتے ہوئے موجودہ عدالتی کارروائی ختم کی جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت حکومت میں شامل تمام اتحادی جماعتوں کے سربراہان اور رہنماؤں کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرصدارت حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا ، جس میں ن لیگ کے تاحیات سربراہ میاں محمد نواز شریف ، سابق صدر آصف علی زرداری، پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز شریف سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین اور راہنماﺅں نے شرکت کی۔ اجلاس وڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا اور مستقبل کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔

اجلاس کے دوران مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں ایک ہی دِن انتخاب ہونے چاہئیں۔ یہ غیرجانبدارانہ، شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کا بنیادی دستوری تقاضا ہے ،  جس سے انحراف ملک کو تباہ کن سیاسی بحران میں مبتلا کردے گا۔ یہ صورت حال ملک کے معاشی مفادات پر خود کش حملے کے مترادف ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے

ن لیگ کا سپریم کورٹ بینچ پر اعتراض، اسد عمر نے ماضی قریب یاد دلا دیا

بابر اعوان نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کو غیرآئینی قرار دے دیا

اجلاس نے واضح کیا کہ لشکر اور جھتوں سے ریاستی اداروں پر حملہ آور ایک جماعت کے دباﺅ پر پورے ملک میں مستقل سیاسی وآئینی بحران پیدا کرنے کی سازش کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ بدقسمتی سے ایک انتظامی معاملے کو سیاسی وآئینی بحران بنادیاگیا ہے۔ معاشی، سکیورٹی، آئینی، قانونی اور سیاسی امورکو نظرانداز کرنا ریاستی مفادات سے لاتعلقی کے مترادف ہے۔ خاص مقصد اور جماعت کو ریلیف دینے کی عجلت سیاسی ایجنڈا دکھائی دیتا ہے۔ یہ آئین و قانون اور الیکشن کمشن کے اختیار کے بھی منافی ہے۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 218 (3 ) سمیت دیگر دستوری شقوں کے تحت انتخاب کرانا الیکشن کمشن کا اختیار ہے، سپریم کورٹ کو آئین کے تحت ایک آزاد اور خودمختار الیکشن کمشن کے اختیار میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ یہی فیصلہ سپریم کورٹ کے چار معزز جج صاحبان ازخود نمبر 1/2023 میں دے چکے ہیں۔

اجلاس چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کرتا ہے۔ اور تقاضا کرتا ہے کہ ازخود نوٹس نمبر 1/2023 کے چار رکنی اکثریتی فیصلے کو مانتے ہوئے موجودہ عدالتی کارروائی ختم کی جائے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اقلیت کے فیصلے کو اکثریت کے فیصلے پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ یہ طرز عمل ملک میں ایک سنگین آئینی و سیاسی بحران ہی نہیں بلکہ آئین اور مروجہ قانونی طریقہ کار سے انحراف کی واضح مثال ہے۔ جو ریاست کے اختیارات کی تقسیم کے بنیادی تصور کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اجلاس نے سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے 184 (3 ) کے تحت تمام مقدمات کی سماعت روکنے کا حکم دیا ہے۔ متضاد عدالتی فیصلوں سے ناقابل عمل اور پیچیدہ صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بینچ کے فیصلے کا احترام کرنا بھی سب پر لازم ہے۔

اجلاس نے مطالبہ کیا کہ پاکستان بار کونسل اور دیگر بار ایسوسی ایشنز کی طرف سے آرٹیکل 209 کے تحت دائر کردہ ریفرنسز پر کارروائی کی جائے۔

اجلاس نے واضح کیا کہ جسٹس اعجاز الاحسن تو پہلے ہی اس مقدمے میں رضا کارانہ طورپر بینچ سے الگ ہوچکے تھے لہذا وہ موجودہ بینچ کا حصہ نہیں ہوسکتے۔ اس بابت جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل کے آرڈرز واضح ہیں ، یہ سب کچھ ریکارڈ پر بھی موجود ہے۔ اجلاس نے چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ سپریم کورٹ کے بینچز میں اٹھنے والی اختلافی آوازوں کو ادارے کے سربراہ کے طورپر سنیں اور فی الفور فل کورٹ اجلاس کا انعقاد کریں۔ تاکہ ’وَن۔ مین۔شو‘ کا تاثر ختم ہو۔

اجلاس نے آرٹیکل 63 اے کے معاملے پر تین رکنی فیصلے کو سیاسی عدم استحکام کا باعث قرار دیا۔ جس کے ذریعے آئین کو ری رائیٹ کیا گیا۔

اجلاس نے یہ بھی قرار دیا کہ اعلی ترین عدالت کی سوچ میں تقسیم واضح نظر آرہی ہے۔ لہذا عدالت عظمی کو متازعہ سیاسی فیصلے جاری کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔

مطالبہ کیا گیاکہ چیف جسٹس اور بعض دیگر ججوں سے متعلق یہ تاثر بھی ختم کیاجائے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے معاملے خصوصی امتیازی رویہ اپنا رہے ہیں۔ یہ بھی واضح کیا کہ سیاستدانوں کو مل کر بیٹھ کر فیصلے کرنے کی ہدایت کرنے والے خود تقسیم ہیں ، انہیں اپنے اندر بھی اتحاد اور اتفاق پیدا کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نزیر تارڑ نے اجلاس کو آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت پارلیمنٹ سے ہونے والی قانون سازی سے متعلق آگاہ کیا اور سپریم کورٹ میں معزز جج صاحبان کے درمیان اختلافی فیصلوں اور بینچوں کے اجراء سے پیدا ہونے والے صورت حال پر بریفنگ دی۔

اجلاس نے پارلیمنٹ کی حالیہ قانون سازی کی بھرپور تائید کی اور کہا کہ اس قانون سازی سے انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کردی گئی ہیں۔ جبکہ عوام الناس کے ساتھ یک طرفہ انصاف کی روش کا خاتمہ کرتے ہوئے انہیں داد رسی کا حق دیاگیا ہے جو فطری انصاف اور آئین کی بنیادی منشا ہے۔ پارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعے آرٹیکل 184 (3) سے متعلق اپنی رائے واضح کردی ہے ۔ پارلیمنٹ ایک بالادست ادارہے ہے جس کی رائے کا سب کو احترام کرنا چاہیے۔ اجلاس نے ا میدظاہر کی کہ صدر مملکت اس قانون سازی کی راہ میں جماعتی وابستگی کی بنیاد پر رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اجلاس کو ملک کی معاشی صورتحال پر بریفنگ دی۔

اجلاس میں ایم کیو ایم کے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، امین الحق ، سردار اختر مینگل، ہاشم نوتزئی، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ،محمد طاہر بزنجو، محمود خان اچکزئی، شفیق ترین، اے این پی کے امیر حیدر خان ہوتی ، میاں افتخار حسین ، باپ کے ڈاکٹر خالد مگسی، چوہدری سالک حسین، طاہر بشیر چیمہ،نوابزادہ شاہزین بگٹی، آفتاب احمد شیرپاؤ، خواجہ محمد آصف، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، رانا تنویر حسین، مریم اورنگزیب ، ملک محمد احمد خان، عطاء اللہ تارڑ، علامہ ساجد میر، اسلم بھوتانی ، مولانا عبدالغفور حیدری، شاہ اویس نورانی ، کامران مرتضی، محسن داوڑ، فاروق ایچ نائیک، مرتضی وہاب، شیراز راجپر شریک ہوئے۔

متعلقہ تحاریر