جو پارٹی انتخابات سے بھاگے گی اس دن اس کی موت ہو جائےگی، وزیراعظم شہباز شریف
لائرز کمپلیکس کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ اگر فل کورٹ بینچ بنانے کا فیصلہ مان لیا جاتا پاکستان میں کسی نے اس کے فیصلے سے روگردانی نہیں کرنی تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی الیکشن سے بھاگ نہیں سکتی ، اس پارٹی کی سیاست اس دن دفن ہو جائے گی جس دن وہ الیکشن سے بھاگے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں لائرز کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا یہ میرے لیے بڑی خوشی کی بات ہے کہ لائرز کمپلیکس کا سنگ بنیاد میرے ہاتھوں سے رکھا گیا۔ کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 1.8 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ کمپلیکس میں خواتین کے لیے الگ اور مردوں کے لے الگ سوئمنگ پول بنایا جانا چاہیے۔ وکلاء کا تعلق معاشرے کے اس ممتاز طبقے سے تعلق ہے جنہوں نے قانون کی حکمرانی ، عدلیہ کی بحالی ، اور انصاف کے حصول کے لیے آپ نے قربانیاں دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
آج کی قرارداد کا مقصد سپریم کورٹ جو مرضی کر لے ہم حکومت کرتے رہیں گے، فواد چوہدری
سپریم کورٹ کا پنجاب انتخابات فیصلہ ، پارلیمان نے تین دنوں میں دو قرارداد منظور کرلیں
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وکلاء سے زیادہ آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے کسی نے قربانی نہیں دی۔ آپ لوگوں نے عدلیہ کی بحالی کے لیے ڈنڈے اور گولیاں کھائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وزیراعظم اکیلا کچھ نہیں کابینہ ہے، جنہوں نے یہ حکم دیا ہے انہوں نے اس حکم کو خود پر کیوں لاگو نہیں کیا۔ میں یہ بات ادب و احترام سے کرنا چاہتا ہوں کہ مولوی تمیزالدین کے کیس میں نظریہ ضرورت کی ایجاد جسٹس منیر کی۔ اور پھر اس نظریہ ضرورت نے پاکستان کو کہاں تک پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب کو عدالتوں کو احترام کرنا چاہیے ، ججز کا ہم سب کو احترام کرنا چاہیے ، لیکن جو قانون وہ کسی کے لیے بنائیں اس قانون کو وہ اپنے اوپر بھی لاگو کریں۔ شروع میں 9 ممبران پر مشتمل بنیچ بنا جو آخری میں تین ممبر کے بینچ تک رہ گیا ، تین رکنی بینچ میں سے بھی ایک جج نے خود کو بینچ سے الگ کرلیا تھا۔ فور تھری کی ایک بحث چل رہی ہے ، جنہوں نے خود بینچ سے الگ کیا تھا پھر انہیں خود اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے تھا۔ اگر فل کورٹ کا بنانے کا فیصلہ مان لیا جاتا تو کون ہے پاکستان میں جو اس فیصلے روگردانی کرتا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہ میں ایک تین رکنی بینچ کا بھی فیصلہ آیا تھا ، پہلے اس فیصلےکو سرکلر سے رد کیا گیا اور پھر چھ رکنی بینچ بنا کر اس فیصلے کو رد کردیا گیا۔ اگر اس کو سرکلر سے ختم کرنا تھا تو پھر لارجر بینچ بنانے کی ضرورت کیا تھی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کوئی سیاسی پارٹی الیکشن سے بھاگ نہیں سکتی ، اس پارٹی کی سیاست اس دن دفن ہو جائے گی جس دن وہ الیکشن سے بھاگے گی۔ 63 اے کے قانون کو کس طرح سے ری رائٹ کیا گیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیاسی پارٹیوں کو فریق نہیں بنایا گیا ، عدالت عظمیٰ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے ، اب بھی موقع ہے ٹھنڈے دل کے ساتھ سوچیں۔









