فواد چوہدری نے سپریم کورٹ سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کا مطالبہ کر دیا

رہنما تحریک انصاف کی جانب سے صدر مملکت کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ دستور نگران حکومتوں کو صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کا واحد فرض سونپتا اور اس کیلئے 90 روز کی مہلت دیتا ہے۔

سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے اتوار کے روز سپریم کورٹ آف پاکستان پر پر زور دے کر کہا ہے کہ وہ صوبوں میں نگراں حکومتوں کی تین ماہ کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ایڈمنسٹریٹرز کا تقرر کرے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو لکھے گئے خط میں فواد چوہدری نے کہا کہ نگراں حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد صوبے کا انچارج کون ہوگا اس پر آئین خاموش ہے۔ انہوں نے صدر سے اس معاملے کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی درخواست کی۔

یہ بھی پڑھیے

سابق امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کی نام لیے بغیر آصف زرداری پر سخت تنقید

ٹریفک حادثے میں جاں بحق مفتی عبدالشکور کا مقدمہ تھانہ سیکریٹریٹ میں درج

فواد چوہدری کی جانب سے صدر مملکت کو لکھے گئے خط کے متن کے مطابق دستورِ پاکستان کے تحت اقتدارِ اعلیٰ رب العزت کیلئے خاص، اختیارات کا سرچشمہ عوام ہیں۔ عوام اپنے اختیارات منتخب نمائندوں کے ذریعے بروئے کار لاتے ہیں۔

فواد چوہدری کی جانب سے صدر مملکت کو لکھے گئے خط کے متن کے مطابق پنجاب اور پختونخوا میں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد دونوں صوبوں میں نگران حکومتیں قائم کی گئیں، دستور نگران حکومتوں کو صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کا واحد فرض سونپتا اور اس کیلئے 90 روز کی مہلت دیتا ہے، نگران حکومتیں ایک طرح سے الیکشن کمیشن آف پاکستان ہی کی توسیع ہیں۔

فواد چوہدری کی جانب سے صدر مملکت کو لکھے گئے خط کے متن کے مطابق دستور نگران حکومتوں کو اہم پالیسی فیصلہ سازی سے روک کر روزمرہ کے امور کی انجام دہی تک محدود کرتا ہے، پی ڈی ایم حکومت اور الیکشن کمیشن کے غیرآئینی اور غیرقانونی اقدامات کے باعث انتخابات کے حوالے سے دستور کی طے شدہ مدت گزر گئی۔

فواد چوہدری کی جانب سے صدر مملکت کو لکھے گئے خط کے متن کے مطابق پہلے بھی سپریم کورٹ کو انتخابات کے انعقاد کی مدت کےُتعین کیلئے عدالتِ عظمیٰ کو اپنا آئینی اختیار استعمال کرنا پڑا، پنجاب اور پختونخوا میں دونوں نگران حکومتیں اپنی آئینی مدت مکمل کرچکی ہیں۔

خط کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ دستور نگران حکومتوں کے مدتِ کار میں توسیع کی اجازت نہیں دیتا، الیکشن کمیشن تمام قوانین اور معقولیت کے تمام معیارات روندتے ہوئے ان نگرانوں کو دونوں صوبوں پر مسلط کئے ہوئے ہے۔

صدر مملکت کو لکھے گئے خط کے متن کے مطابق 90 روز گزر جانے کے بعد ان نگران حکومتوں کو کسی طرح قانونی نہیں کہا جاسکتا، 90 روز کی مدت گزر جانے کے بعد ان نگران حکومتوں کی حیثیت ”غاصبوں“ کی سی ہے جنہیں فوراً ہٹایا جانا چاہئے، صدرِ مملکت سے استدعا ہے کہ آئین سے اس سنگین انحراف کا نوٹس لیں۔

فواد چوہدری کی جانب سے صدر مملکت کو لکھے گئے خط میں استدعا کی گئی ہے کہ صدرِ مملکت مشاورتی (ایڈوائزری) دائرۂ اختیار کے تحت معاملہ عدالتِ عظمیٰ کو بھجوائیں۔

متعلقہ تحاریر