90 لاکھ سے زائد نوجوان آئندہ انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے

18 سے 35 سال کے عمر کا گروپ کل رجسٹرڈ ووٹرز کا 44.36 فیصد ہے، جو کل ووٹرز کا 125.6 ملین سے زیادہ ہے۔ 2018 کے عام انتخابات میں اس گروپ کے کل ووٹرز کا 43.82 فیصد حصہ تھا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 18 سے 35 سال کی عمر کے ووٹروں کی تعداد میں 90 لاکھ سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد نے انہیں ایک اہم قوت میں تبدیل کر دیا ہے۔ ووٹنگ کے عمل میں ان کی پولنگ بوتھ میں انٹری آئندہ انتخابات کے نتائج کو تبدیل کر سکتی ہے۔

ہفتہ کے روز الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے جاری کردہ ووٹرز کے اعدادوشمار کے مطابق، 28 مارچ تک نوجوان ووٹرز کی تعداد 55.74 ملین تھی۔

18 سے 35 سال کے عمر کا گروپ کل رجسٹرڈ ووٹرز کا 44.36 فیصد ہے، جو کل ووٹرز کا 125.6 ملین سے زیادہ ہے۔ 2018 کے عام انتخابات میں اس گروپ کے کل ووٹرز کا 43.82 فیصد حصہ تھا۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت اور تحریک انصاف کو ایک میز پر لانے کی جماعت اسلامی کوششیں کتنی کارگر ثابت ہوں گی؟

فواد چوہدری نے سپریم کورٹ سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کا مطالبہ کر دیا

الیکشن کمیشن کے مطابق عمر کے لحاظ سے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کل اہل ووٹرز میں سے 23.1 ملین یعنی 18 فیصد، 18 سے 25 سال کے عمر کے ووٹرز پر مشتمل ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق 32.6 ملین یعنی 26 فیصد، 26 سے 35 سال کے عمر کے ووٹرز پر مشتمل ہے۔ 27.7 ملین یعنی 22 فیصد کی عمریں 36 سے 45 سال پر مشتمل ہیں۔

ای سی پی کے اعدادوشمار کے مطابق 18.1 ملین یعنی 14 فیصد ، 46 اور 55 سال کے افراد کے گروپ پر مشتمل ہے۔ 11.9 ملین یعنی 9 فیصد، 56 اور 65 سال کی درمیانی عمر کے افراد پر مشتمل ہے اور 12.1 ملین یعنی 10 فیصد 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد پر مشتمل ہے۔

ای سی پی کے جاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 18 سے 35 سال کی عمر 55.74 ملین ووٹرز 2023 کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ حالیہ تیار کی گئی انتخابی فہرستوں میں 19.67 ملین ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد، جن کی اکثریت سوشل میڈیا کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اگر پولنگ کے دن بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے نکل آئے تو کئی حلقوں کے نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔

عمر کے لحاظ سے ووٹرز کی صوبوں میں تقسیم

ای سی پی کے اعدادوشمار کے مطابق 25 سال سے کم عمر ووٹرز کی مجموعی تعداد کل ووٹرز کا 23.1 ملین ہے۔ اس عمر کے 12.53 ملین ووٹرز کا تعلق پنجاب ، 4.83 ملین ووٹز کا تعلق سندھ، 4.47 ملین ووٹرز کا تعلق خیبر پختونخوا، 1.09 ملین ووٹرز کا تعلق بلوچستان اور 0.18 ملین ووٹرز کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔

26 سے 35 سال کی عمر کے 32.62 ملین ووٹرز میں سے 18.44 ملین پنجاب میں، 6.49 ملین سندھ میں، 6.04 ملین کے پی میں، 1.38 ملین بلوچستان میں اور 0.25 ملین وفاقی دارالحکومت میں ہیں۔

36 سے 45 سال کی عمر کے ووٹروں کی تعداد سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے 15.87 ملین پنجاب، 6.11 ملین سندھ، 4.41 ملین کے پی، 1.12 ملین بلوچستان، اور 0.219 ملین وفاقی دارالحکومت سے ہیں۔

45 سے 55 سال کی عمر کے 18.12 ملین ووٹرز ہیں، جن میں 10.41 ملین پنجاب، 4 ملین سندھ، 2.84 ملین خیبر پختونخوا، 0.70 ملین بلوچستان اور 0.14 ملین ووٹرز وفاقی دارالحکومت سے ہیں۔

56 سے 66 سال کی عمر کے 11.89 ملین ووٹرز میں سے 7.09 ملین پنجاب، 2.43 ملین سندھ، 1.81 ملین کے پی، 0.45 ملین بلوچستان اور 0.10 ملین اسلام آباد سے ہیں۔

ملک میں 12.10 ملین ووٹرز کی عمریں 66 سال سے زائد ہیں، جن میں سے 7.20 ملین کا تعلق پنجاب، 2.51 ملین کا سندھ، 1.82 ملین کا کے پی، 0.46 ملین کا تعلق بلوچستان اور 0.10 ملین کا وفاقی دارالحکومت سے ہے۔

ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق، 28 مارچ تک، ملک میں 67.89 ملین یعنی 54 فیصد ووٹرز کی تعداد مردوں پر مشتمل ہے جبکہ 57.73 ملین یعنی 46 فیصد ووٹرز کی تعداد خواتین پر مشتمل ہے۔

ای سی پی کے مطابق 2018 میں کل ووٹرز کی تعداد 105.95 ملین تھی جبکہ 2023 میں ان رجسٹرڈ ووٹرز میں 19.67 ملین کا اضافہ ہوا ہے۔ 2018 کے عام انتخابات میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد بالترتیب 59.22 ملین اور 46.73 ملین تھی۔

مجموعی طور پر ووٹرز

ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق، 28 مارچ تک، ملک میں 67.89 ملین یعنی 54 فیصد مرد ووٹرز اور 57.73 ملین یعنی 46 فیصد خواتین ووٹرز تھے۔ 2018 کے عام انتخابات میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد بالترتیب 59.22 ملین اور 46.73 ملین تھی۔

2013 کے عام انتخابات کے لیے تیار کی گئی انتخابی فہرستوں میں کل ووٹرز کی تعداد 86.18 ملین تھی، جن میں سے 17.5 ملین ووٹرز 25 سال سے کم عمر، 24.2 ملین 26 سے 35 سال کے درمیان، 17.2 ملین 36 سے 45 سال کے درمیان، 12 ملین 46 سے 55 کے درمیان، 8.4 ملین 56 سے 65 سال کے درمیان ، اور 6.7 ملین 66 سال سے اوپر کے افراد پر مشتمل ہے۔

متعلقہ تحاریر