مذاکرات کے دروازے کبھی کسی پر بند نہیں کیے، وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس کا اعلامیہ
دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے اصرار پر جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے پارٹی سے مشاورت کا عندیہ دے دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کا اعلیٰ سطح کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں ملکی صورت حال کا تفصیل سے جائزہ، آئینی و قانونی امور پر مستقبل کی حکمت عملی پر بھی مشاورت کی گئی۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری کے اصرار پر مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پارٹی سے مشاورت کا عندیہ دے دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں اتحادی جماعتوں کا اعلیٰ سطح کا اہم مشاورتی اجلاس بدھ کی شام وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں ملکی صورت حال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا اور آئینی و قانونی امور پر مستقبل کی حکمت عملی پر مشاورت ہوئی۔
اجلاس نے آئینی طریقہ کار کے مطابق نگراں حکومتوں کے تحت ملک میں ایک ہی دن میں عام انتخابات کے انعقاد کے پہلے سے بیان کردہ موقف پر مشاورت کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ عیدالفطر کے بعد اتحادی جماعتوں کا سربراہی اجلاس بلایا جائے ، تاکہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجود تمام جماعتوں کے ساتھ پہلے سے شروع کردہ مشاورت کے قومی عمل کو اگلے مرحلے میں لے جایا جائے اور اس ضمن میں طریقہ کو حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیے
حکومت مذاکرات کیلیے بااختیار نہیں، اداروں میں آج بھی عمران خان کے سہولت کار ہیں، جاوید لطیف
سپریم کورٹ انتخابی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے وزراء کو 5 سال کےلیے نااہل قرار دے، اعتزاز احسن
اجلاس نے واضح کیا کہ اتحادی جماعتوں میں الیکشن کے انعقاد سے متعلق پہلے سے مشاورت اور مذاکرات کا عمل جاری ہے جس کے لئے وزیراعظم پہلے ہی ایک کمیٹی بھی بنا چکے ہیں جبکہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
مزید برآں امیر جماعت اسلامی کی وزیراعظم سے ملاقات بھی اسی عمل کا حصہ ہے۔ اجلاس نے اعادہ کیاکہ آئین، جمہوریت اور عوام کے ووٹ کے آئینی حق پر یقین رکھنے والی جماعتوں کے طور پر انتخابات کے انعقاد پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ سیاستدان کے طور پر مذاکرات کے دروازے ہم نے کسی پر بھی کبھی بھی بند نہیں کئے، نہ ہی کوئی جمہوریت پسند ایسا کر سکتا ہے۔
میثاقِ معیشت کی پیشکش سے لے کر اب تک ہر مرحلے پر اتحادی حکومت نے بامعنی، سنجیدہ اور آئینی حدود کے اندر مذاکرات کے لئے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ آزادانہ، شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنانا بنیادی آئینی تقاضا ہے۔
اجلاس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ انتخابات کے وہ تمام لوازمات یقینی بنائے جائیں جن کے نتیجے میں انتخابات کے نتائج سب جماعتوں کو قابل قبول ہوں اور الیکشن کے نتیجے میں ملک کسی نئے سیاسی عدم استحکام سے دوچار نہ ہو جو ریاست کے معاشی وقومی مفادات کے لئے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بنے۔
دوسری جانب گذشتہ روز چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ڈیرہ اسماعیل خان میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔
بلاول بھٹو زرداری مولانا فضل الرحمان کو منانے کے لیے ان کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان قابل اعتماد آدمی نہیں ہے ، جو جماعتیں مذاکرات کرنا چاہتی ہیں کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے گفتگو کے دوران اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ نہ میں مفتی محمود ہوں اور نہ آپ ذوالفقار علی بھٹو۔ تاہم مولانا نے بلاول کے اصرار پر پارٹی سے مشاورت کا عندیہ دے دیا۔









