ضامن بننا یا پنچایت لگانا سپریم کورٹ کا کام نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اتحادی جماعتوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا کام قانون اور آئین کے مطابق فیصلے دینا ہے لہٰذا اس بارے میں کہ ایک دن الیکشن ہونے چاہئیں اور کب ہونے چاہئیں اس بارے میں اتحادی جماعتوں کے اندر مکمل ایکا اور اتفاق ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ذاتی اقتدار کے حصول کیلئے پی ٹی آئی نے ہر حربہ استعمال کیا، پارلیمان کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر تحفظات ہیں ، تین رکنی بینچ کے فیصلے کو قبول نہیں کیا ، سپریم کورٹ کا فیصلہ چار تین سے ہے ، ضامن بننا اور پنچایت لگانا سپریم کورٹ کا کام نہیں۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ذاتی اقتدار کے حصول کیلئے پی ٹی آئی نے ہر حربہ استعمال کیا، افواج پاکستان اور اس کی قیادت کو بیرونی ایجنٹوں کے ذریعے بدنام کیا گیا، معاشرے میں انتشار اور تقسیم در تقسیم پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی، اس سب کچھ کے باوجود اتحادی حکومت گفتگو کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتی۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی پارلیمان کے ذریعے گنجائش پیدا کر سکتی ہے، ایک دن الیکشن کی تاریخ پر سب کو اکٹھا کرنے کیلئے ہم نے اپنی آخری کوشش کر لی، پارلیمان جو فیصلے کرے گی ان کا احترام کریں گے، سپریم کورٹ کا کام پنچایت یا ثالثی کرنا نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب اور کےپی کے انتخابات: وفاقی کابینہ کی 21 ارب روپے کی سمری پارلیمنٹ کو بھیجنے کی منظوری

چیف جسٹس کی ساس اور طارق رحیم کی اہلیہ کی گفتگو؛ عمرعطا بندیال پر پی ٹی آئی کی حمایت کا الزام

وزیراعظم نے کہا کہ آج ایک بار پھر اتحادی جماعتوں کے رہنما مشاورت کیلئے جمع ہوئے ہیں، ماضی قریب میں اتحادی رہنماؤں کی جو نشستیں ہوئیں ان میں ملک کو درپیش صورتحال، حالات اور چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس کے نتیجہ میں اقدامات کئے گئے، قومی اسمبلی اور پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں بھی ان چیلنجز پر بات چیت ہوئی اور عدالت عظمیٰ کے حوالہ سے معاملات پر آئینی و قانونی اقدامات اٹھائے گئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ صورتحال ابھی بھی بڑی چیلنجنگ ہے، کل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ، جس کو پارلیمان نے قبول نہیں کیا اور یہ ایک متفقہ رائے اور فیصلہ تھا کہ ہم چار تین کا فیصلہ مانتے ہیں، پانچ دو یا تین دو کا نہیں، اس پر پوری پختگی سے ہم نے اپنا مؤقف قائم کیا اور آج بھی ہم سب یہ سمجھتے اور مانتے ہیں کہ فیصلہ چار تین کا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ اس حوالہ سے اپنے تین رکنی بنچ کے ساتھ معاملات کو آگے لے کر جانا چاہتی ہے تو اس بارے میں ہم آج پھر اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ اپنے پہلے فیصلے کا اعادہ کریں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کل اسی بنچ نے الیکشن کیلئے فنڈز کی فراہمی کے حوالہ سے جواب مانگا ہے، اس سے پہلے سپریم کورٹ نے جو فیصلے دیئے تھے ان کو پارلیمان نے ڈیل کیا اور آج بھی میں سمجھتا ہوں کہ پارلیمان نے جو فیصلے دیئے ہیں اور قراردادیں منظور کی ہیں یہ معاملہ بھی پارلیمان چاہے گی کہ اس کے سامنے لایا جائے اور وہ قوم کے سامنے اپنی رائے کو سامنے لائے، ہمارا یہ اخلاقی اور سیاسی فرض بنتا ہے کہ پارلیمان نے جو فیصلے دیئے ہیں ہم ان کا احترام کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جو کہا اس سے ہٹ کر میں نہیں سمجھتا کہ مجھے یا آپ کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ ہم سپریم کورٹ کو ضامن بنائیں یا ثالثی کا حق دیں، یہ ان کا کام نہیں ہے، پنچایت ان کا کام نہیں ہے، ان کا کام قانون اور آئین کے مطابق فیصلے دینا ہے لہٰذا اس بارے میں کہ ایک دن الیکشن ہونے چاہئیں اور کب ہونے چاہئیں اس بارے میں اتحادی جماعتوں کے اندر مکمل ایکا اور اتفاق ہے کہ الیکشن نومبر میں، جو بھی اس کی تاریخ بنتی ہے، کو ہونے چاہئیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ 13 اگست کو پارلیمان کی مدت ختم ہونی ہے، اس کے بعد اگر 90 دن شامل کئے جائیں تو اکتوبر، نومبر کی تاریخ بنتی ہے مگر قوم کو یہ باور کرانے کیلئے کہ ملک کے اندر اس وقت جو چیلنجز ہیں اور جس کو پی ٹی آئی کی قیادت نے، انتہائی افسوس کی بات ہے کہ حل کرنے کیلئے تجاویز دینے کی بجائے ایکسپلائیٹ کیا، انہوں نے اپنے صوبائی وزراء خزانہ کو کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے سے انکار کر دیں تاکہ آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت نے یہ کہہ کر پاکستان کے راستے میں مزید کانٹے بچھائے کہ امریکہ نے سازش کی تھی اور پھر انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی سے یوٹرن لیا اور ایک دن گویا ہوئے کہ یہ سازش امریکہ نے نہیں بلکہ اس سازش کے تانے بانے پاکستان کے اندر ہی بنے گئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی نے جس بری طرح ہمارے خارجی تعلقات کو بے حد نقصان پہنچایا اس کی تفصیلات وہ یہاں بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ اور میرے سمیت اتحادی رہنماؤں نے معاملات کو ٹھیک کرنے کیلئے اپنی پوری کوششیں کیں جن کے نتیجہ میں کافی بہتری آئی ہے لیکن اس کے باوجود معاملات کو تسلی بخش قرار دینا مشکل ہے۔

متعلقہ تحاریر