الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ سے اپنے 14 مئی کے انتخابات کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ
ای سی پی نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں کہا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود کمیشن کو نہ تو فنڈز فراہم کیے گئے اور نہ ہی سیکورٹی دی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے کی درخواست کردی ہے۔
ای سی پی کی جانب سے یہ استدعا ایک علیحدہ درخواست کے ذریعے کی گئی ، جس میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ اس معاملے پر نظرثانی کی درخواست پر فیصلہ آنے تک اپنا فیصلے کو معطل کردے۔
یہ بھی پڑھیے
صدر مملکت کو حریت کانفرنس کا خط؛ سرینگر میں جی20 اجلاس پر پاکستان سے مدد مانگ لی
پی ڈی ایم حکومت کے دو حمایتی صحافیوں کی خبر کے بعد مراد سعید ٹوئٹر ٹرینڈ کرنے لگے
درخواست میں استدعا کی گئی کہ اگر فیصلہ معطل نہ کیا گیا تو الیکشن کمیشن کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔
اس سے قبل کمیشن نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کے سپریم کورٹ کے حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’’عدلیہ کو انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا اختیار نہیں ہے،‘‘ آئین پاکستان نے عدلیہ کو ایسا کوئی حق نہیں دیا۔
سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دے کر اپنا دائرہ کار سے تجاوز کیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ الیکشن کی تاریخ دے کر الیکشن کمیشن کے دائرے اختیار میں مداخلت کررہی ہے۔
ای سی پی نے اپنی درخواست میں کہا کہ ملک میں مضبوط جمہوریت کے لیے مضبوط الیکشن کمیشن ضروری ہے، مضبوط الیکشن کمیشن کے بغیر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کسی فیصلے میں غلطی کرتا ہے تو عدلیہ اسے درست کر سکتی ہے۔ تاہم سیاسی انتشار کی موجودہ فضا کی وجہ سے آزادانہ اور شفاف انتخابات ممکن نہیں ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو فنڈز کی عدم فراہمی اور سیکورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ سازگار ماحول کے بغیر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نہیں ہو سکتے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ 90 دنوں میں انتخابات کرانے کی آئینی حد کو نافذ کیا جائے۔ اس سے قبل ای سی پی نے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کے سپریم کورٹ کے حکم پر نظرثانی کی درخواست آج دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
درخواست میں کہا گیا کہ فنڈز اور سیکیورٹی کی عدم فراہمی پر عدالت سے مشاورت کی جائے گی۔ ای سی پی کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود نہ تو کمیشن کو فنڈز فراہم کیے گئے اور نہ ہی سیکورٹی فراہم کی گئی۔
ای سی پی کا کہنا ہے کہ 14 مئی کو صرف چند دن باقی ہیں۔ اب فنڈز مل بھی جائیں تو انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔
واضح رہے کہ 4 اپریل کو سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے پنجاب میں انتخابات 8 اکتوبر تک ملتوی کرنے کے اعلان کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
تین رکنی خصوصی بینچ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے 22 مارچ کے فیصلے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آئین اور قانون ای سی پی کو انتخابات ملتوی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
سپریم کورٹ نے الیکشن شیڈول میں معمولی ردوبدل کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ پنجاب میں انتخابات 30 اپریل کی بجائے 14 مئی کو ہوں گے۔









