عمران خان کی گرفتاری القادر ٹرسٹ کیس میں ہوئی ہے، رانا ثناء اللہ

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ بزنس ٹائیکون کو یوکے سے حاصل ہونے والی رقم دے کر القادر ٹرسٹ کے لیے 458 کینال اراضی پیر سوہاوہ کے قریب خریدی گئی۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کی کرپشن کی دیگر انکوائریز بھی ان پروگریس ہیں ، عمران خان کی موجودہ گرفتاری القادر ٹرسٹ کیس میں ہوئی ہے ، پراپرٹی ٹائیکون سے برطانیہ میں منی لانڈرنگ کا پیسہ پکڑا گیا ، وہ رقم 190 ملین پاؤنڈ تھی جو پاکستانی روپے میں 60 ارب روپے بنتی ہے برآمد ہوئی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ وہ رقم پاکستان کے قومی خزانے میں واپس آنی تھی ، یوکے  کی حکومت نے پاکستانی حکومت سے رابطہ کیا ، یوکے حکومت نے رقم کی منتقلی سے متعلق بات کی ، شہزاد اکبر نے وہ رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کی  بجائے ایک القادر ٹرسٹ بنایا گیا ، اس رقم سے 458 کینال زمین پیر سوہاوہ میں اور 240 کینال زمین بنی گالہ میں خریدی گئی۔ یہ پراپرٹی باقاعدہ القادر ٹرسٹ کے نام سے رجسٹرڈ ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے 

عدالت عظمیٰ  نے ارشد شریف قتل کیس کی اسپیشل جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کردی

آئی ایم ایف نے پاکستان پر 493 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی کی شرط رکھ دی

رانا ثناء اللہ  کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی آٹھ ماہ پہلے اس پراپرٹی کے تمام ڈاکومنٹس میڈیا سے شیئر کیئے تھے۔ میں نے عمران خان نیازی کو چیلنج کیا تھا کہ تم ان تمام حقائق کا جواب دو۔ رشوت کو چھپانے کے لیے القادر ٹرسٹ بنایا گیا۔ اس ٹرسٹ کے صرف دو ٹرسٹی ہیں ، عمران خان نیازی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی ٹرسٹی ہیں ، ان دو کے علاوہ کوئی تیسرا ٹرسٹی نہیں ہے۔

رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا کہ بنی گالہ میں لی گئی 240 کینال اراضی فرح گوگی کے نام رجسٹرڈ ہے۔ جس کی مالیت 6 سے 7 ارب روپے بنتی ہے۔ اس سارے معاملے میں شہزاد اکبر نے اپنی دلالی کے 2 ارب روپے وصول کیے۔

متعلقہ تحاریر