القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں 3 جون تک توسیع

اوارنٹ گرفتاری جاری نہ ہونے پر عدالت نے بشریٰ بی بی کی درخواست ضمانت کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی عبوری ضمانت میں 3 جون تک توسیع کر دی ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی قانونی ٹیم نے 8 جون تک توسیع کی درخواست کی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس سمن رفعت پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

عمران ریاض اور ارقم شیخ کی گمشدگی، افغان فون نمبرز کا استعمال مگر ریاست غیر سنجیدہ

بینچ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی عبوری ضمانت میں تین دن کی توسیع کرتے ہوئے مدت ختم ہونے پر انہیں احتساب عدالت سے رجوع کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے اپنے حکم میں لکھا ہے کہ متعلقہ عدالت سے رجوع نہ کرنے کی صورت میں عبوری ضمانت کالعدم ہو جائے گی۔

عمران خان مختلف کیسز کے سلسلے میں قومی احتساب بیورو کے راولپنڈی آفس اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے لیے لاہور سے اپنی رہائش گاہ زمان پارک سے روانہ ہوئے تھے۔ عمران خان کے ساتھ وکلا کی ٹیم بھی ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ القادر ٹرسٹ کیس میں بشریٰ بی بی کے وارنٹ گرفتاری جاری نہ ہونے پر ان کی درخواست ضمانت کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

بشریٰ بی بی اپنے شوہر عمران خان کے ہمراہ احتساب جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش ہوئیں۔

ان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے تحقیقات میں شامل ہونے کا ایک نوٹس بھی نہیں بھیجا اور انکوائری کو تفتیش میں تبدیل کردیا۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر نے کہا کہ عمران خان نے 13 مئی کو چیئرمین نیب کے خلاف غیر اخلاقی بیانات دیئے، نیب کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔

عمران خان نے کہا کہ نیب نے بشریٰ بی بی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے، انہوں نے کہا کہ بیورو پر دباؤ ڈالنے کے لیے یہ جھوٹا بیانیہ گھڑا گیا۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا بیورو نے کوئی چھاپہ مارا اور نہ ہی حملہ کیا۔

بشریٰ بی بی کے کوئی وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے گئے، انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک جھوٹے شخص ہیں اور انہیں بیورو کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

بعدازاں جج محمد بشیر نے بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں جانے کا حکم دے دیا۔

متعلقہ تحاریر