پاناما کا معاملہ: جماعت اسلامی کی جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا، سپریم کورٹ نے متعدد سوالات کھڑے کردیئے
جسٹس طارق مسعود نے سوال اٹھایا کہ جماعت اسلامی نے براہ راست درخواست سپریم کورٹ میں کیوں دی ؟ اگر سارے کام سپریم کورٹ نے ہی کرنے ہیں تو ان اداروں کا کیا فائدہ ہے؟
سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما پیپرز میں شامل 436 پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی ہے۔ سماعت ایک ماہ کےلیے ملتوی کردی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے کمرہ عدالت نمبر تین میں جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں پاناما پیپرز میں شامل 436 پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔
درخواست جماعت اسلامی کے وکیل کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پاناما میں آنے 436 پاکستانیوں کے خلاف انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
آزاد کشمیر کی نشست پر پیپلز پارٹی کی فتح ، مسلم لیگ (ن) کیلئے آئندہ انتخابات کیلئے سبق
خدیجہ شاہ تک قونصلر رسائی کی امریکی درخواست وزیر داخلہ کو بھیج دی، دفتر خارجہ
سماعت کے آغاز پر جسٹس طارق مسعود نے جماعت اسلامی کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو سات سال بعد یاد آیا کہ پاناما پیپرز میں شامل 436 افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ جب سپریم کورٹ اس وقت کارروائی کررہی تھی تو آپ نے اس وقت کا مطالبہ کیوں نہیں کیا؟۔ اس وقت تو صرف ایک فیملی کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ آپ اس کے لیے کیا دلیل پیش کریں گے آپ کیسے انصاف کریں گے؟
جسٹس سردار طارق مسعود نے مزید استفسار کیا کہ اس وقت جماعت اسلامی نے اپنی درخواست میں سے 436 افراد کو ڈی لسٹ کروادیا تھا ، اب آپ کہہ رہے ہیں کہ سب کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
جسٹس سردار طارق مسعود کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے اس میں معاملہ کچھ اور تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کیسے 184 تھری کے ہوتے ہوئے کسی ادارے کو کارروائی کا حکم دے سکتی ہے۔
جسٹس سردار طارق مسعود کا کہنا تھا کہ ادارے موجود ہیں ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان موجود ہے، ایف بی آر ، نیب ، ایف آئی اے ، ایس ای سی پی اور دیگر ادارے ہیں۔ ان تمام ادارے کے ہوتے ہوئے آپ نے کسی ادارے کو درخواست نہیں دی ، براہ راست درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی۔ سابقہ کارروائی میں صرف ایک فیملی کو ٹارگٹ کیا گیا۔
اس پر جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس وقت سپریم کورٹ نے ہماری درخواست کی بجائے عمران خان کی درخواست کو ٹیک اپ کرلیا تھا۔ جس کے بعد ہمارا کیس الگ کردیا گیا تھا۔
اس پر جسٹس طارق مسعود کا کہنا تھا کہ آرڈر میں بڑا واضح لکھا ہے کہ جماعت اسلامی کی درخواست تھی کہ دیگر تمام لوگوں کا کیس الگ کردیا جائے۔
جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کہ ادارے کی موجودگی میں سپریم کورٹ کیسے تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے؟ کیسے جے آئی ٹی تشکیل دے سکتی ہے؟ کیسے 184 تھری کی موجودگی اتنا بڑا ریلیف دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا ہم نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ کیا کوئی کرائم بھی ہوا ہے یا نہیں ہوا۔
جسٹس سردار طارق مسعود کا کہنا تھا کہ اگر سارے کام سپریم کورٹ نے ہی کرنے ہیں تو ان اداروں کا کیا فائدہ ہے؟ ان کا کہنا تھا یہ بینچ کوئی سوموٹو کارروائی نہیں کرے گا، بس آپ کی درخواست کو قانون کے مطابق دیکھ رہے ہیں۔
جسٹس سردار طارق مسعود نے جماعت اسلامی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ صرف اس بات کا جواب دیں کہ آپ نے اس وقت صرف ایک فیملی کو کیوں ٹارگٹ کیا اور 436 افراد کو کیوں کیس سے الگ کیا؟۔
بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔









