چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کے نام کی سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی کی منظوری

سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مسرت ہلالی کا نام بطور جج سپریم کورٹ کی متفقہ منظوری دے دی۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس مسرت ہلالی کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل کا ججز کی تعینات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے متفقہ طور پر جسٹس مسرت ہلالی کا نام سپریم کورٹ کے جج کے لیے منظور کر لیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دوسری خاتون جج کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی میڈیا نے عمران خان کی نشریات پر عائد پابندی کی مذمت کردی، گارجین

عمران خان کامعاشی ویبنار سے خطاب؛ ملکی معیشت سے متعلق اہم اعلانات کردیئے

پشاور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس مسرت ہلالی منظوری کےبعد سپریم کورٹ کی سولویں جج ہوں گی۔ سپریم کورٹ کی سترہ نشستوں میں سے 15 نشستوں پر ججز کام کررہے تھے ، جبکہ دو نشستیں خالی  تھیں، تاہم جسٹس مسرت ہلالی کے نام کی منظوری کے بعد اب سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 16 سولہ ہوجائےگی۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مسرت ہلالی کا نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد صدر پاکستان اس کی حتمی منظوری دیں گے۔ جس کے بعد جسٹس مسرت ہلالی باقاعدہ طور پر سپریم کورٹ جج تعینات ہو جائیں گی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ سپریم کورٹ میں دو خواتین ججز کام کریں گی۔ جسٹس مسرت ہلالی سے قبل جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ میں بطور جج کام کررہی ہیں۔

متعلقہ تحاریر