جسٹس مسرت ہلالی نے سپریم کورٹ کے جج کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس مسرت ہلالی سے حلف لیا، وہ جسٹس عائشہ ملک کے بعد سپریم کورٹ پہنچنے والی دوسری خاتون جج بن گئیں ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ کی سابق چیف جسٹس مسرت ہلالی نے جمعہ کے روز سپریم کورٹ کی جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ جسٹس مسرت ہلالی ، جسٹس عائشہ ملک کے بعد باضابطہ طور پر سپریم کورٹ پہنچنے والی ملک کی دوسری خاتون جج بن گئیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے روایتی ہال میں منعقدہ تقریب میں چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے جسٹس مسرت ہلالی سے حلف لیا۔

حلف برداری کی تقریب کیں وکلاء برادری، سپریم کورٹ کے سینئر ججز اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بھی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیے

اے ٹی سی کا عمران خان کو جناح ہاؤس آتشزدگی کیس میں شامل تفتیش ہونے کا حکم

سویڈن میں قرآن پاک کی بےحرمتی کے خلاف سکھر ڈیویلپمنٹ الائنس کی زیرقیادت احتجاجی ریلی کا انعقاد

جسٹس مسرت ہلالی کے حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ میں ججز کی منظور شدہ کل 17 سے 16 ہو گئی ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بدھ کے روز ججوں کی تقرری سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی توثیق کے بعد پشاور ہائی کورٹ (پی ایچ سی) کے چیف جسٹس مسرت ہلالی کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا۔

جسٹس قیصر رشید خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس ہلالی نے یکم اپریل کو پشاور ہائی کورٹ (پی ایچ سی) کی پہلی خاتون چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس طاہرہ صفدر کے بعد ملک میں کسی ہائی کورٹ کی چیف جسٹس بننے والی دوسری خاتون جج تھیں ، جنہوں نے ستمبر 2018 سے اکتوبر 2019 تک بلوچستان ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کے طور پر کام کیا۔

متعلقہ تحاریر