عمران خان کا توشہ خانہ کیس میں نیب کے سامنے پیش ہونے سے انکار
پی ٹی آئی سربراہ کا کہنا ہے کہ 19 جولائی کو اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش ہونا ہے، اس دن نیب کے سامنے پیش ہو سکتا ہوں۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے توشہ خانہ کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کرلی۔
نیب کو جمع کرائے گئے اپنے تحریری جواب میں عمران خان نے کہا کہ انہیں 19 جولائی کو اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش ہونا ہے اور اسی دن نیب کے سامنے پیش ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
توشہ خانہ کیس ٹرائل: عمران خان نے رجسٹرار کے اعتراضات دور کرنے کی درخوست کردی
کرپشن کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ سے اسد قیصر کی 10 روزہ حفاظتی ضمانت منظور
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر لاہور سے اسلام آباد کا سفر بہت کم کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیب کے سیکشن 18 (سی) کے تحت صرف وہی انکوائری رپورٹ وصول کر سکتا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ جب میرا جواب نیب کو موصول ہو جائے تو انکوائری رپورٹ میرے وکیل بیرسٹر گوہر کو دے دی جائے۔
عمران خان کے تحریری جواب میں کہا گیا کہ جب سپریم کورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں ان کی رہائی کا حکم دیا تو وہ انکوائری رپورٹ بھول گئے تھے۔
عمران خان نے نیب کو جمع کرائی گئی درخواست میں مزید کہا ہے کہ اس وقت بھی انکوائری رپورٹ بیرسٹر گوہر کو آپ کے افسر سے موصول ہوئی تھی۔
پی ٹی آئی سربراہ کے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ وکیل توشہ خانہ کیس کی انکوائری رپورٹ میری جانب سے وصول کریں گے۔









