شاہد خاقان عباسی اور اسلم بھوتانی نگراں وزیر اعظم کے ‘امیدواروں’ کی فہرست شامل، ذرائع

نگراں سیٹ اپ پر بات چیت کے لیے وزیراعظم نے اتحادیوں کا اجلاس طلب کرلیا۔ اہم تقرری پر مشاورت 2 دن تک جاری رہے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے حفیظ شیخ اور فواد حسن فواد بھی نگراں وزیراعظم کی فہرست میں شامل ہیں۔

نگراں وزیراعظم کے ناموں پر غور کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پی ڈی ایم حکومت میں شامل تمام جماعتوں کا ہونے والا اجلاس اختتام پذیر ہوگیا۔

نگراں وزیراعظم کے لیے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور بلوچستان سے آزاد رکن اسمبلی اسلم بھوتانی سمیت دیگر کے ناموں پر غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ اور نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد بھی ان افراد میں شامل ہیں جن پر آج اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے 

علیم خان نے پی ٹی آئی کی حکومت کو چلانے والے گینگ آف 5 کا انکشاف کر دیا

بلوچستان کی اہم سیاسی شخصیات کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا امکان

تفصیلات کے مطابق اتحادی حکومت میں شامل تمام سیاسی جماعتیں اس وقت نگراں سیٹ اپ کے بارے میں خیالات کا تبادلہ کرنے کے لیے زوم میٹنگ کر رہے ہیں ، کیونکہ حکومت کی مدت قریب ہے۔

جمعیت علمائے اسلام فضل (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو اور دیگر سینئر رہنما اجلاس میں شرکت کی۔

نگراں سیٹ اپ کے حوالے سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنما بار بار ملاقاتیں کرتے رہے لیکن اس حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

جمعرات کے روز اراکین قومی اسمبلی کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا تھا کہ قومی اسمبلی اپنی مدت سے تین دن پہلے 9 اگست کو قبل از وقت تحلیل ہو جائے گی۔

قانونی بندش

قوانین کے تحت اگر کوئی اسمبلی اپنی مدت پوری کرنے کے بعد تحلیل ہو جاتی ہے تو مقننہ کے انتخابات 60 دن کے اندر کرائے جاتے ہیں لیکن اگر وقت سے پہلے تحلیل ہو جائے تو انتخابات 90 دن کے اندر کرائے جاتے ہیں۔

گزشتہ رات عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال 11 اپریل کو مخلوط حکومت کے قیام کے بعد انہیں بے مثال چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ، جن میں معاشی مشکلات، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ تھکا دینے والے مذاکرات، تباہ کن سیلاب، افراط زر اور سیاسی افراتفری شامل ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا، "عمران نیازی اور اس کے ٹولے نے اپنے بے بنیاد الزامات، فسادات اور لانگ مارچ سے سیاسی افراتفری پیدا کی۔”

انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا، انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی سیاست کو بے بنیاد الزامات اور گالی گلوچ کے کلچر سے زہر آلود کر دیا گیا ہے۔

شہباز نے کہا کہ آئی ایم ایف کے مشکل چیلنج نے ان کی راتوں کی نیندیں اڑا دیں کیونکہ آئی ایم ایف معاہدے کی کمی سے معیشت پر بوجھ پڑتا، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑا، روپے کی قدر میں کمی اور بے روزگاری بڑھ گئی۔

متعلقہ تحاریر