پی ڈی ایم کی جماعتیں ایک دوسرے کو منانے کی کوشش کریں گی؟

مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) استعفوں پر اور پاکستان پیپلزپارٹی تحریک عدم اعتماد پر قائل کرنے کی کوشش کرے گی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت کا اجلاس جمعرات کو بھی ہوگا جس میں مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن دیگر جماعتوں کو استعفوں پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اُدھر پیپلزپارٹی ن لیگ اور جے یو آئی کو استعفوں کے بجائے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر راضی کرنے کی کوشش کرے گی۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کے لیے مارچ کا دوسرا ہفتہ تجویز کردیا ہے۔ آج مولانا فضل الرحمٰن کی زیرصدارت پی ڈی ایم کے اجلاس میں لانگ مارچ کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا جبکہ سینیٹ الیکشن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی عدم اعتماد کی تحریک پر مشاورت بھی کی جائے گی۔ جمعرات کے اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال سمیت آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنے سے متعلق بھی گفتگو ہوگی۔

 بظاہر مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور مولانا فضل الرحمٰن پیپلز پارٹی کو استعفوں پر راضی کرنے اور پاکستان پیپلز پارٹی بقیہ دونوں جماعتوں کو تحریک عدم اعتماد لانے پر منانے کی کوششں میں ناکام نظر آرہی ہیں کیونکہ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ طے شدہ منصوبے پر عمل نہیں کیا جا سکا ہے جس پر حکومتی جماعت نے طنز کے تیر برسائے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اکتیس جنوری گزر گئی پی ڈی ایم نے استعفے دیئے نا ہی وزیر اعظم نے

اس سے قبل پی ڈی ایم کے اندر پھوٹ پڑی، پیپلزپارٹی نے اتحاد سے کئی حد تک اپنی راہیں جُدا بھی کیں اور وزیراعظم کو ہٹانے کی کوشش میں اب تک کوئی کامیابی بھی نہیں ملی۔

حزبِ اختلاف جماعتوں کے اتحاد نے وزیراعظم کو مستعفی ہونے کے لیے 31 جنوری کی ڈیڈلائن دی تھی جو گزر چکی ہے۔ حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ 31 جنوری تک وزیراعظم استعفیٰ دیں گے یا پھر تمام جماعتیں مشترکہ طور پر مستعفی ہوکر حکومت ختم کردیں گے۔ لیکن ڈیڈلائن تک نہ تو وزیراعظم نے استعفیٰ دیا اور نہ حزب اختلاف نے۔

اِس پورے معاملے میں گزشتہ روز ایک پیشرفت یہ بھی ہوئی ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو اُن کے خلاف مقدمات میں  غیر معینہ مدت تک کے لیے ضمانت مل گئی ہے۔ آصف علی زرداری کی قید کے دوران علالت کی وجہ سے اُنہیں ضیاء الدین اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ علاج کے ساتھ ساتھ قید بھی کاٹ رہے تھے۔

 

متعلقہ تحاریر