پی ڈی ایم میں فیصلہ سازی کا اختیار فردِ واحد کو نہیں، مریم اورنگزیب

مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کی فیصلہ سازی میں پیپلز پارٹی کا پلڑہ بھاری ہونے کا تاثر درست نہیں ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں کسی ایک سیاسی جماعت یا فرد کو فیصلہ سازی کا اختیار ہے۔ 

نیوز360 سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’یہ تاثر درست نہیں ہے کہ پی ڈی ایم میں مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی پارلیمانی جماعت ہے لیکن اس کے باوجود فیصلہ سازی میں پیپلز پارٹی کا پلڑہ بھاری رہتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

مسلم لیگ ن میں اب کس کا بیانیہ چلے گا؟

انہوں نے کہا کہ ’پی ڈی ایم میں ہار یا جیت کا کوئی معاملہ نہیں ہوتا، کسی بھی اتحاد میں مل بیٹھ کر مشاورت سے حکمت عملی طے کی جاتی ہے۔ جس طرح ملک پر فاشسٹ حکمران مسلط ہیں اُس طرح کا طریقہ کار پی ڈی ایم میں نہیں ہوتا۔‘

مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’ملک پر کھلنڈرے سیاسی بچے مسلط ہیں۔ انہیں کیا پتا کہ تحریک یا آئین کی حفاظت اور ووٹ کی عزت کیا ہوتی ہے۔ حزبِ اختلاف جماعتوں کے اتحاد میں شامل تمام جماعتوں نے ملک و قوم اور آئین کے لیے قربانیاں اور جمہوریت کے لیے جانیں دی ہیں۔‘

نیوز 360 کے نامہ نگار جاوید نور نے مریم اورنگزیب سے سوال کیا کہ اپوزیشن نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعظم 31 جنوری تک چلے جائیں گے مگر ایسا نہیں ہوا۔ کیا پی ڈی ایم  لانگ مارچ سے تو پیچھے نہیں ہٹ جائے گی؟

اِس سوال کے جواب میں مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے کہا کہ ’ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم نے 31 جنوری کی ڈیڈ لائن دی تھی اور سوچ رہے تھے کہ شاید عمران خان کو اتنی شرم آجائے کہ وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔ انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا تو ہمیں انہیں گھر بھیجنا آتا ہے۔‘

متعلقہ تحاریر