سیاستدانوں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات

تیمور تالپور کا کہنا ہے کہ گوگل سندھ حکومت کے بنائے گئے نظام سے استفادہ حاصل کررہا ہے۔

ہمارے ملک کے سیاستدانوں کے عجیب و غریب بیانات متعدد مرتبہ عوام میں مذاق بن کر رہ جاتے ہیں۔ وزیر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی سندھ تیمور تالپور کا کہنا ہے کہ مشہور سرچ انجن گوگل صارفین کو راستے بتانے کے لیے سندھ حکومت سے مدد لیتا ہے۔

پاکستان کے سیاستدان اکثر و بیشتر اپنی تقاریر میں وہ باتیں کہہ جاتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا ہے۔ کچھ سیاستدان جوش میں ہوش کھو بیٹھتے ہیں تو کچھ اپنی سیاسی جماعت کی تعریف کرتے ہوئے حد سے گزر جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ ہوا صوبائی وزیر تیمور تالپور کے ساتھ جنہوں نے سندھ اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ گوگل میپ جو راستے پر ٹریفک کی صورتحال سے آگاہ کرتا ہے وہ سسٹم سندھ حکومت نے گوگل کو بنا کر دیا ہے جس سے گوگل فائدہ اٹھا رہا ہے۔

تیمور تالپور نے اس بیان سے اسمبلی میں تو اپنا مذاق بنوا ہی، سوشل میڈیا پر بھی ان کے اس حیران کن دعوے پر تبصرے کیے جارہے ہیں۔

ہمارے یہاں سیاستدانوں کے عجیب و غریب بیانات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی متعدد رہنما اپنی غیر ذمہ داری کا ثبوت دے چکے ہیں۔

 مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سیالکوٹ جلسے کے دوران شرکا سے انڈوں کی فی کلو اور ٹماٹر کی فی درجن قیمت پوچھ لی تھی۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مریم نواز کا خوب مذاق اڑایا گیا تھا۔

گذشتہ برس اکتوبر میں گورنرخیبرپختونخوا شاہ فرمان  نے کہا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح سال 2013 میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ مزید کہا کہ قائداعظم نے 2013 میں اس لیے مسلم لیگ جوائن کی تاکہ وہ مسلم لیگ اور کانگریس کو قریب کرسکیں۔

وزیراعظم عمران خان بھی ایک بیان میں جاپان اور جرمنی کی سرحدیں آپس میں ملا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مریم نواز کی جلسے میں غلطی سوشل میڈیا پر مذاق بن گئی

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو بیانات دینے سے قبل تحقیق کرنے اور اہم معلومات کو ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی غلطیاں نہ ہوں۔

متعلقہ تحاریر