حکومت اور جہانگیر ترین کے درمیان نہلے پہ دہلے کا کھیل جاری
جہانگیر ترین کے عشائیے میں 29 اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کی شرکت نے حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
حکومت اور جہانگیر ترین ایک دوسرے کے خلاف نہلے پہ دہلے کا کھیل جاری ہے۔ جمعے کے روز وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی درخواست پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما جہانگیر ترین اور ان کے خاندان کے 36 اکاؤنٹس منجمد کردیے تھے۔ جمعے کے روز ہی جہانگیر ترین نے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کے اعزاز میں عشائیہ دیا تھا جس میں تقریباً 29 اراکین اسمبلی نے شرکت کی تھی۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی جانب سے دیے جانے والے خصوصی عشائیے میں 8 ارکان قومی اسمبلی، 2 صوبائی وزراء اور 4 صوبائی مشیران سمیت 21 اراکین پنجاب اسمبلی نے شرکت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
جہانگیر ترین نے سیاسی پتے پھینکنا شروع کردیے

عشایئے میں شرکت کرنے والے ارکان قومی اسمبلی میں راجہ ریاض، سمیع گیلانی، ریاض مزاری، خواجہ شیراز، مبین عالم انور، جاوید وڑائچ، غلام بی بی بھروانہ، غلام لالی، پنجاب کے صوبائی وزیر ملک نعمان لنگڑیال اور وزیر اجمل چیمہ نے بھی شرکت کی۔ جبکہ صوبائی مشیر عبدالحئی دستی، امیر محمد خان، رفاقت گیلانی اور فیصل جبوانہ بھی شریک ہوئے۔

حکومت اور جہانگیر ترین کے درمیان نمبرز کا کھیل
اس وقت پاکستان تحریک انصاف اور ان کے اتحادیوں کی قومی اسمبلی میں 178 نشستیں ہیں۔ جہانگیر ترین کے عشائیے میں 8 اراکین قومی اسمبلی نے شرکت کی تھی جس کا مطلب ہے اگر وہ 8 اراکین حکومت سے علیحدہ ہوجاتے ہیں تو پی ٹی آئی کی حکومت قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کھو دے گی۔ اسی طرح عشائیے میں پنجاب حکومت کے 2 صوبائی وزراء سمیت 15 سے زیادہ اراکین اسمبلی نے شرکت کی تھی۔ اگر یہ اراکین بھی اپنی وفاداری تبدیل کر لیتے ہیں تو بزدار حکومت کے لیے بھی مشکل صورتحال پیدا ہوجائے گی۔
سنیچر کے روز پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین اور ان کے صاحبزادے علی ترین چینی اسکینڈل اور جے ڈی ڈبلیو فراڈ کیس میں لاہور کی سیشن عدالت اور بعد ازاں لاہور کے بینکنگ کورٹ میں پیش ہوئے۔
لاہور کی سیشن عدالت نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری ضمانت میں 22 اپریل تک توسیع کردی ہے جبکہ بینکنگ کورٹ کے جج امیر محمد خان نے بھی ان کی ضمانت میں 17 اپریل تک توسیع کی ہے۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر جہانگیر ترین کے ہمراہ 6 اراکین قومی اسمبلی اور 21 صوبائی اسمبلی کے ارکان جوڈیشل کمپلیکس پہنچے تھے۔
جمعے کے روز وفاقی تحقیقاتی ادارے کی درخواست پر مرکزی بینک نے جہانگیر ترین اور ان کے خاندان کے 36 اکاؤنٹس منجمد کردیے تھے۔ جن اکاؤنٹس کو منجمد کیا گیا ہے ان میں جہانگیر ترین کے 14، ان کی اہلیہ کا ایک اور بیٹے علی ترین کے 21 اکاؤنٹس شامل ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق 36 اکاؤنٹس میں سے 4 میں امریکی ڈالرز، 2 میں برطانوی پاؤنڈز اور 30 میں پاکستانی کرنسی ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین نے گذشتہ دنوں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود سے ملاقات کی تھی۔ جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شہلا رضا نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ ’جہانگیر خان ترین ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔‘ لیکن بعد میں انہوں نے اپنا ٹوئٹ ڈلیٹ کردیا تھا۔
اسی طرح سینیٹ انتخاب کے دوران جہانگیر ترین سے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ملاقات کی تھی۔
بدھ کے روز لاہور کی بینکنگ کورٹ میں جہانگیر ترین اور علی ترین کی درخواست ضمانتوں پر سماعت ہوئی تھی۔ گذشتہ پیشی میں جہانگیر ترین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے راجہ ریاض، نعمان لنگڑیال، طاہر رندھاوا، خرم لغاری، سلمان نعیم، غلام بی بی بھروانہ سمیت دیگر اراکین پارلیمنٹ بھی عدالت پیش ہوئے تھے۔









