الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے دھاندلی کے کتنے امکانات؟
تحاقیق بتاتی ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے دھاندلی کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

حکومت پاکستان نے انتخابی عمل میں حزب اختلاف کی جماعتوں کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال پر زور دیا تو حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس کی ساکھ کو چیلنج کردیا ہے۔ لیکن تحاقیق بتاتی ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے دھاندلی کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔
پاکستان میں حال ہی میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج سے متعلق سیاسی حلقوں میں شور برپا ہے۔ حکومت شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) لانے کی کوششیں کر رہی ہے لیکن اسے حزب اختلاف کی مخالفت کا سامنا ہے۔ گذشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ماڈل کا انتخاب کرنے کے لیے حزب اختلاف کو ساتھ بیٹھنے کی دعوت دی تھی لیکن مسلم لیگ (ن) نے اسے مسترد کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انتخابی اصلاحات کی تجاویز میں اعتراض کس پر؟
گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ حکومت کا انتخابی اصلاحات لانے کا کیا مقصد ہے اور ان اصلاحات میں بنیادی اہمیت کس چیز کو حاصل ہے۔
صرف (ن) لیگ ہی نہیں بلکہ پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی حکومت سے مذاکرات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں کہا کہ ’انتخابی اصلاحات کے لیے تیار ہیں لیکن اس میں الیکشن کمیشن کردار ادا کرسکتا ہے۔‘
ساتھ ہی بلاول بھٹو زرداری نے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ختم کرنے کو انتخابی اصلاحات کا بنیادی جزو قرار دیا ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ ’قوم کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی نہیں بلکہ ڈالر بنانے والی علیمہ باجی کی سلائی مشین کی ضرورت ہے۔‘
نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ ’انتخابی اصلاحات کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ اگر حکومت کے پاس کوئی تجویز ہے تو الیکشن کمیشن کے سامنے رکھے۔ اب حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کے ساتھ نہیں بیٹھیں گی۔ 3 سال کے دوران انہوں نے ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’این اے 249 کے انتخاب کے حوالے سے خدشات دور کیے جانے چاہئیں۔ مفتاح اسماعیل نے جن پولنگ اسٹیشنز کے فارنزک آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے اس پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ فارنزک آڈٹ میں جسے برتری حاصل ہوگی اسے تسلیم کرلیں گے۔ 6 ایسی چیزیں ہوئی ہے جن کی شفافیت ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی کے دوستوں کو مرکزی قیادت پر تنقید کی بجائے حوصلے سے کام لینا چاہیے۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ قائد حزب اختلاف کے پروڈکشن آرڈرز وزیراعظم کے منع کرنے پر جاری نہیں کیے گئے۔ تاہم پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں جو فیصلے ہوں گے (ن) لیگ ان کی پابندی کرے گی۔
اسی ضمن میں سینیئر خاتون صحافی بے نظیر شاہ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں انہوں نے لکھا کہ ’حکومت نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی تجویز پیش کی ہے لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے حکام کا کہنا ہے کہ ادارے کو بھی تنظیم نو کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن میں صرف 2 ہزار 800 اہلکار موجود ہیں جنہیں پورے ملک میں پولنگ کا کام سونپا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں وسائل اور بجٹ کی ضرورت ہے۔‘
The govt has proposed amendments to Election Act, but ECP officials say that organisation also needs to be restructured
There are only 2,800 ECP officials, who are tasked to conduct polls in the entire country. They say they need resources, budget…https://t.co/usPUaw5YhL
— Benazir Shah (@Benazir_Shah) May 3, 2021
انہوں نے لکھا کہ ’الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا کوئی عملی مظاہرہ الیکشن کمیشن کو نہیں کرایا گیا ہے اور نہ ہی انہیں اس سے متعلق ہونے والے بیشتر اجلاسوں میں مدعو کیا گیا تھا۔‘
As for electronic voting, ECP officials says no demonstration of the newly developed EVM by the Ministry of Science has been given to the ECP. Neither were they invited to most of the meetings on it.
— Benazir Shah (@Benazir_Shah) May 3, 2021
بے نظیر شاہ نے انڈیا کی چند مثالیں دی ہیں جن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے بھی دھاندلی ہوئی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’ہم یہاں الیکٹرانک ووٹنگ کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں جبکہ انڈیا کی کچھ مثالیں موجود ہیں جن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے دھاندلی ہوئی ہے۔ انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا کے شہر ستارا میں 2019 میں تمام ووٹ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے) پی کو گئے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ووٹر نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر کس بٹن کو دبایا تھا۔‘
And while we are on the topic of e-voting, here are some examples from India of how electronic voting can be manipulated.
In 2019, in Satara, all votes went to the ruling BJP no matter which button voters hit on the EVM. https://t.co/ksV1nd4sLR
— Benazir Shah (@Benazir_Shah) May 3, 2021
انہوں نے انڈیا کی ہی ایک اور مثال دیتے ہوئے لکھا کہ ’چندرپور میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق ایک اور واقعہ پیش آیا تھا جہاں 2 افراد کو مشین کو گاڑی میں لے جاتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔‘
"In another incident related to the EVM in Chandrapur, two people were caught carrying voting machines in a private vehicles.”
— Benazir Shah (@Benazir_Shah) May 3, 2021
اس کے برعکس کیمبرج یونیورسٹی نے الیکٹرانک ووٹنگ کی ٹیکنالوجی کو کاغذات یا بیلٹ پیپر کے مقابلے میں زیادہ بہتر قرار دیا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ’الیکٹرانک ووٹنگ مشینز بھی ووٹ کے انتخاب کو تبدیل کرسکتی ہیں لیکن ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ای وی ایم کے ذریعے جعلی ووٹوں کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جو ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتی ہے۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں ٹرن آؤٹ کم ہونے کے بارے میں مبہم شواہد موجود ہیں۔ رائے دہندگان کی غلطی یا دھوکہ دہی کے اضافے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ آڈیٹیبل پیپر ٹریل والی مشینیں الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے مختلف کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔
ادھر بروکنگز انسٹی ٹیوٹ نے اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ ’2019 میں انڈیا کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہر اسمبلی 5 پولنگ بوتھ میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ساتھ وی وی پی اے ٹی (ووٹر ویریفائڈ پیپر آڈٹ ٹریل) کی مماثلت ہوئی۔ تقریباً 17 لاکھ 30 ہزار وی وی پی اے ٹی میں سے 20 ہزار 625 وی وی پی اے ٹی کی گنتی کی گئی۔ فزیکل آڈٹ میں وی وی پی اے ٹی پرچی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی گنتی کے درمیان کوئی فرق نہیں دیکھا گیا۔‘
بے نظیر شاہ نے انڈیا میں پیش آنے والے واقعات کا ذکر تو کردیا ہے لیکن انہیں بطور صحافی انہیں پہلے کیمبرج یا بروکنگز کی تحقیق بھی پڑھ لینی چاہیے تھے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہر مشین غلطی کر سکتی ہے اور بہتری کی گنجائش ہر شے میں موجود ہوتی ہے۔ سوچنے کی بات تو یہ ہے الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے غلطی کی نسبت آسانی زیادہ کتنی ہوگی۔









