پشاور کے قرنطینہ سینٹر سے کرونا کے 25 مشتبہ مریض فرار

ذرائع کا مطابق جب 25 مشتبہ مریض فرار ہوئے تو اس وقت پولیس سروس اسپتال کے قرنطینہ سینٹر میں عملے کا کوئی فرد موجود نہیں تھا۔

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں قائم قرنطینہ سینٹر سے بیرون ممالک سے آنے والے کرونا کے 25 مشتبہ مریض فرار ہو گئے ہیں۔ پشاور ایئر پورٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے بھر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے کرونا کی وباء سے متاثرہ 25 مریضوں کو پولیس سروس اسپتال میں قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔ 

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ قرنطینہ سینٹر سے کرونا کے 25 مریضوں کے فرار ہونے کے بعد کھلبھلی مچ گئی ہے اور فرار ہونے والے مریضوں کے ریکارڈ کی چھان بین شروع کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی میں پاکستان کا سب سے بڑا ویکسینیشن سینٹر قائم

اسپتال ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ فرار ہونے والے مریضوں میں برطانوی وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت کے حکام نے 3 روز قبل پولیس سروس اسپتال کو بیرون ممالک سے آنے والے مسافروں کے لیے قرنطینہ سینٹر قرار دیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جب 25 مشتبہ مریض فرار ہوئے تو اس وقت پولیس سروس اسپتال کے قرنطینہ سینٹر میں عملے کا کوئی فرد موجود نہیں تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور پولیس اور محکمہ صحت کے عملے نے کرونا کے فرار ہونے والے مریضوں کی تلاش کا عمل شروع کردیا ہے۔

گذشتہ ہفتے چغتائی پیتھالوجیکل لیبارٹری کی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کرونا کیسز کے زیادہ مریضوں میں برطانوی وائرس اور جنوبی افریقی وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

چغتائی لیب نے تحقیقاتی مقالے کی تفصیلات ٹوئٹر پر شیئر کی تھیں۔

تجزیے سے معلوم ہوا کہ 62 نمونوں میں سے 60 میں برطانوی وائرس جبکہ 2 میں جنوبی افریقی وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

تحقیقاتی مقالے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں کرونا کیسز میں اضافے کی بڑی وجہ برطانوی وائرس ہے۔

ماہر امراض پروفیسر اختر سہیل چغتائی اور ڈاکٹر عمر چغتائی نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب میں تیسری لہر کے دوران کرونا کیسز میں اضافے کی اصل وجہ برطانوی وائرس ہے۔

تشویش کی بات یہ ہے کہ پشاور کے پولیس سروس اسپتال سے فرار ہونے والے کرونا مریضوں میں برطانوی وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اور مذکورہ وائرس تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

متعلقہ تحاریر