پاکستان میں افغان مہاجرین کرونا ویکسین سے محروم
افغان مہاجرین بھی 1166 پر اپنے افغان رجسٹریشن کارڈ کا نمبر بھیجتے ہیں لیکن انہیں متعلقہ کوڈ اور ویکسین لگانے کی جگہ کی تصدیق نہیں ہوتی۔
کرونا کی وباء کی خطرناک صورتحال میں حکومت پاکستان کی جانب سے جہاں پاکستانی عوام کو ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری ہے وہیں افغان مہاجرین کے لیے اقدامات کرنے کے باوجود کسی بھی افغان شہری کو تاحال ویکسین نہیں ملی ہے۔
محکمہ صحت اور حکومت کے دعوے اپنی جگہ لیکن اب تک افغان مہاجرین کے لیے ویکسین لگانے کا مناسب بندوبست نہیں کیا جاسکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت 30 لاکھ کے قریب افغان مہاجرین موجود ہیں جن کے لیے اب بھی مختلف مقامات پر 43 کیمپس موجود ہیں۔ جبکہ بندوبستی علاقوں میں بھی لاکھوں کی تعداد ایسی ہے جن کے پاس افغانی کارڈ تک موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کو تاحال ویکسین نہیں دی جاسکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
وزارت صحت کی کرونا ویکسین سے موت کی تردید
حکومت پاکستان کی جانب سے لگائے گئے افغان کیمپس سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں موجود افغان باشندوں کے لیے کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کے حوالے سے وہی پالیسی رکھی گئی ہے جو پاکستانی شہریوں کے لیے ہے۔ لیکن رجسٹریشن ہونے کے باوجود بھی افغان مہاجرین ویکسین سے محروم ہیں۔
افغان مہاجرین کے لیے حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) سمیت کمشنریٹ کی جانب سے بھی پاکستان میں افغان مہاجرین کو ویکسین فراہم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن اس میں سب سے بڑی رکاوٹ افغان کارڈز کی وجہ سے پیش آرہی ہے۔

افغان کمشنریٹ میں تعینات پراجیکٹ ہیڈ ڈاکٹر تحسین فاطمہ نے کرونا ویکسین سے متعلق کہا ہے کہ ’افغان مہاجرین کو ویکسین نہ ملنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ افغان رجسٹریشن کارڈز بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس ویکسینیشن کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا بھی اسے کامیاب نہیں ہونے دے رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’حکومت پاکستان نے افغانیوں کے لیے بھی ویکسینیشن کا طریقہ کار وہی رکھا ہے جو پاکستانی شہریوں کے لیے ہے۔ افغان مہاجرین بھی 1166 پر اپنے افغان رجسٹریشن کارڈ کا نمبر ڈالتے ہیں لیکن انہیں متعلقہ کوڈ اور ویکسین لگانے کی جگہ کی تصدیق نہیں ہوتی۔‘
نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’اب تک 600 سے زیادہ افغان مہاجرین نے اپنے کارڈ سے رجسٹریشن کروائی ہے لیکن کسی نہ کسی مسئلے کی وجہ سے وہ ویکسین لگانے سے محروم ہیں۔ افغان کمشنر اور یو این ایچ سی آر کی جانب سے حکومت کے ساتھ کئی اجلاس ہوئے ہیں تاکہ افغان مہاجرین کو بھی یہ ویکسین جلد از جلد مل سکیں۔ لیکن اس معاملے میں اب تک کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔‘
دوسری جانب پشاور سمیت صوبہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں کرونا سے متاثرین کی تعداد کافی زیادہ ہے لیکن اب تک صرف 3 لاکھ کے قریب لوگوں کو ویکسین دی گئی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ ویکسینیشن کا عمل کافی سست روی کا شکار ہے۔ ویکسین لگانے کا سلسلہ محکمہ صحت اور 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے بعد اب 19 سال کے نوجوانوں تک پہنچ چکا ہے۔









