اپوزیشن کا اپوزیشن کے خلاف واک آؤٹ
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کو کاغذی عہدیدار قرار دے دیا۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں ڈہرکی ٹرین حادثے پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے کاغذی عہدیدار سیاست چمکا رہے ہیں۔‘ بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما احتجاجاً قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کر گئے۔
پیر کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیرصدارت ہوا۔ ڈہرکی ٹرین حادثے پر قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’وزیراعظم عمران خان تو کہتے تھے کہ جب ٹرین حادثہ ہو تو وزیر ریلوے اور وزیراعظم کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ہمیں افسوس کا اظہار نہیں بلکہ جواب چاہیے کہ اس حکومت میں ٹرین کے اتنے حادثات کیوں ہورہے ہیں؟‘
یہ بھی پڑھیے
پی ایس ایل سے قبل پی سی بی اور میڈیا آمنے سامنے
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’ڈہرکی ٹرین حادثہ بہت بڑا حادثہ ہے۔ وزراء اور مسلم لیگ (ن) کے کاغذی عہدیدار اس پر سیاست چمکانے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ملک کے غریب عوام ٹرین میں سفر کرتے ہیں مگر ان کی زندگی کو تحفظ حاصل نہیں ہے۔‘
Today my request suspend all other business to discuss #GhotkiTrainAccident was denied by chair. PM, Railway minister not in NA to answer why in 3 years of this govt we’ve had more train accidents than any other govt in history of Pakistan. Shocked at callous attitude of govt. https://t.co/uBjwd36T4M
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) June 7, 2021
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ پیغام دینا ہے کہ ہم حادثے کے شکار افراد کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ملک میں آئے روز ٹرین حادثات ہوتے رہتے ہیں مگر حکومت نے آج تک ہمیں ان کا جواب نہیں دیا ہے۔‘
تاہم بلاول بھٹو زرداری کی تنقید پر اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کرگئے۔
اس سے قبل ڈہرکی ٹرین حادثے پر قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان مغربی جمہوریت پر پی ایچ ڈی کرچکے ہیں۔ وزیراعظم صاحب فرماتے تھے کہ مغرب میں حادثات پر وزراء مستعفی ہوجاتے ہیں، اس حادثے پر وزیراعظم استعفیٰ دیں گے یا وزیر مستعفی ہوں گے؟‘
مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے بلاول بھٹو کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے کہ ’بچوں کی بات کا برا نہیں مناتے۔‘
بلاول بھٹو عمر میں میرے بڑے بیٹے سے چھوٹا ہے-بچوں کی بات کا برا نہیں مناتے درگزر کرتے ہیں انہیں ابھی بہت کچھ سیکھنا ہوتا ہے-“کاغذی وصیت” کا ان پر حملہ تو PTI والے کرتے ہیں پتہ نہیں انہیں مجھ پر “کاغذی” وار کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ https://t.co/7w07PhheHb
— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) June 7, 2021
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی آپسی تکرار پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ردعمل دیتے ہوئے ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے کہ ’مہنگائی اور معیشت کی تباہی کا رونا رونے والی اپوزیشن اپنی موت آپ مر جائے گی۔‘
مہنگائ اور معیشت کی تباھی کا اپوزیشن کا بیانیہ اپنی موت آپ مر گیا ہے اب اپوزیشن کے اندرونی اختلافات اورلیڈرشپ کی لڑائ ان کی رہی سہی سیاست کو فارغ کر دے گی،اپوزیشن کی سنجیدہ پارلیمانی لیڈرشپ انتخابی اصلاحات پر بات کرنا چاہتی ہے لیکن غیر سنجیدہ قیادت راستے میں رکاوٹ ہے
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) June 8, 2021









