کراچی میں ایک اور بزنس مین کا قتل، ٹارگٹ کلنگ یا؟

مقتول کے والد جماعت اسلامی کے سابق یو سی ناظم تھے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں دن دہاڑے گاڑی پر فائرنگ کر کے ایک اور بزنس مین کو قتل کردیا گیا ہے۔ 32 سالہ کاروباری شخصیت رضا ذوالفقار حسبِ معمول گلفشاں سوسائٹی ملیر سے اپنے دفتر جارہے تھے کہ 2 موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کر کے انہیں قتل کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر واقعہ ذاتی دشمنی یا ٹارگٹ کلنگ معلوم ہوتا ہے۔

قتل کی اندوہناک واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے۔ فائرنگ کا واقعہ الفلاح تھانے کے حدود میں جامعہ ملیہ روڈ کے قریب پیش آیا جہاں موٹر سائیکل سوار 2 ملزمان نے گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھے نوجوان پر گولیاں برسا دیں۔ فائرنگ کا نشانہ بننے والے کار سوار نوجوان رضا ذوالفقار کو فوری طور پر قریب ہی واقع شمسی اسپتال ملیر اور بعدازاں جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ جاں بحق ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیے

بابا بلھے شاہ کی زمین پر گالیوں کا کلچر ہو ہی نہیں سکتا

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جامعہ ملیہ روڈ پر پہنچی اور فائرنگ کے مقام سے نائن ایم ایم پستول کی گولیوں کے خول تحویل میں لے لیے۔ پولیس کے مطابق گاڑی میں سوار نوجوان پر حملہ آوروں نے مجموعی طور پر 3 فائر کیے جن میں سے 2 گولیاں نوجوان کے جسم میں لگیں اور ان کی جان چلی گئی۔

پولیس کے مطابق حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے واضح ہوا کہ موٹرسائیکل سوار حملہ آور مقتول بزنس مین رضا ذوالفقار کی گاڑی کا تعاقب کرتے ہوئے آرہے تھے۔ جیسے ہی گاڑی موڑ پر پہنچی موٹرسائیکل کی پچھلی نشست پر بیٹھے ٹارگٹ کلر نے بائیک سے اترے بغیر ہی گولیاں چلا دیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں واقعہ ذاتی رنجش کی بناء پر ٹارگٹ کلنگ ہی معلوم ہوتا ہے۔ مقتول سے چھینا جھپٹی کی واردات سے متعلق کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

مقتول نوجوان رضا ذوالفقار سے متعلق ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ تھے اور شاہ فیصل کالونی میں واقع رحمان اسٹیل کے نام سے سریے اور سیمنٹ کا کاروبار کرتے تھے۔

پولیس کے مطابق مقتول کے والد ماضی میں جماعت اسلامی کے سابق یو سی ناظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں جبکہ مقتول کی سیاسی وابستگی سامنے نہیں آئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے نائن ایم ایم پستول کی گولیوں کے خول فارنزک لیبارٹری روانہ کردیے ہیں اور واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر نظر آنے والے حملہ آوروں کی تلاش بھی شروع کردی گئی ہے۔

دوسری جانب ڈپٹی انسپکٹر جنرل شرقی ثاقب اسماعیل میمن نے کہا ہے کہ واقعہ ابتدائی طور پر ٹارگٹ کلنگ کا ہی لگتا ہے تاہم دیگر پہلوؤں پر تفتیش کی جارہی ہے۔

متعلقہ تحاریر