صحافیوں کو میڈیا مالکان کے حکومت سے گٹھ جوڑ کا خوف

صدر پی ایف یو جے کا کہنا ہے کہ آزادی صحافت کی جنگ وکلاء اور صحافیوں کو ہی لڑنا پڑے گی۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) کے صدر نے میڈیا مالکان پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے۔ شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ آخر میں میڈیا مالکان پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے تجویز کردہ بل پر حکومت کے ساتھ مل جائیں گے۔

پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا ہے کہ میڈیا مالکان نئے میڈیا قانون پر حکومت کے ساتھ مل جائیں گے اور آزادی صحافت کی جنگ آخر میں وکلاء اور صحافیوں کو ہی لڑنا پڑے گی۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت اور میڈیا اداروں کے درمیان تناؤ کی کمی کے لیے اہم اقدام

صدر پی ایف یو جے کا بیان واضح کررہا ہے کہ صحافیوں کو میڈیا مالکان پر بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے۔ حالانکہ میڈیا کے مختلف ادارے نہ صرف بل کو ایک سخت قانون قرار دے چکے ہیں بلکہ اسے ایوب خان کے دور حکومت میں آزادی صحافت کو کچلنے کی کوشش سے بھی تشبیہ دی گئی تھی۔

یکم جون کو پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ مجوزہ پی ایم ڈی اے کا مقصد میڈیا کی آزادی میں رکاوٹوں کو قابو کرنا ہے۔ پریس ریلیز میں یہ بھی درج تھا کہ میڈیا ادارے قانونی اور اشتہاری مہمات سے پی ایم ڈی اے کے قیام کے خلاف مزاحمت کریں گے۔

پی ایم ڈی اے کے تجویز کردہ بل پر میڈیا کی طرف سے مزاحمت کے بعد حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے تشکیل دی گئی 4 ممبران پر مشتمل کمیٹی کی سربراہی وزیر مملکت فرخ حبیب کر رہے ہیں۔

حکومت کے سفارشات پیش کرنے سے پہلے میڈیا مالکان اور صحافیوں کو چند نکات پر متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ایک دوسرے کے مفادات کا دفاع کرسکیں۔ اس سلسلے میں دو فریقین کا آپس میں تبادلہ خیال کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔

متعلقہ تحاریر