صحافیوں کو میڈیا مالکان کے حکومت سے گٹھ جوڑ کا خوف
صدر پی ایف یو جے کا کہنا ہے کہ آزادی صحافت کی جنگ وکلاء اور صحافیوں کو ہی لڑنا پڑے گی۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) کے صدر نے میڈیا مالکان پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے۔ شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ آخر میں میڈیا مالکان پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے تجویز کردہ بل پر حکومت کے ساتھ مل جائیں گے۔
پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا ہے کہ میڈیا مالکان نئے میڈیا قانون پر حکومت کے ساتھ مل جائیں گے اور آزادی صحافت کی جنگ آخر میں وکلاء اور صحافیوں کو ہی لڑنا پڑے گی۔
پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ میڈیا مالکان تو نئے میڈیا قانون پر حکومت کے ساتھ مل جائیں گئے اور آزادی صحافت کی جنگ آخر میں وکلاء اور صحافیوں کو ہی لڑنا پڑے گی pic.twitter.com/QJow7VaDuQ
— Voicepk.net (@voicepkdotnet) June 17, 2021
یہ بھی پڑھیے
حکومت اور میڈیا اداروں کے درمیان تناؤ کی کمی کے لیے اہم اقدام
صدر پی ایف یو جے کا بیان واضح کررہا ہے کہ صحافیوں کو میڈیا مالکان پر بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے۔ حالانکہ میڈیا کے مختلف ادارے نہ صرف بل کو ایک سخت قانون قرار دے چکے ہیں بلکہ اسے ایوب خان کے دور حکومت میں آزادی صحافت کو کچلنے کی کوشش سے بھی تشبیہ دی گئی تھی۔
یکم جون کو پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ مجوزہ پی ایم ڈی اے کا مقصد میڈیا کی آزادی میں رکاوٹوں کو قابو کرنا ہے۔ پریس ریلیز میں یہ بھی درج تھا کہ میڈیا ادارے قانونی اور اشتہاری مہمات سے پی ایم ڈی اے کے قیام کے خلاف مزاحمت کریں گے۔

پی ایم ڈی اے کے تجویز کردہ بل پر میڈیا کی طرف سے مزاحمت کے بعد حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے تشکیل دی گئی 4 ممبران پر مشتمل کمیٹی کی سربراہی وزیر مملکت فرخ حبیب کر رہے ہیں۔
The Ministry of Information & Broadcasting has constituted a committee to liaise with the stakeholders to deliberate on the prospects of the Pakistan Media Development Authority (PMDA). @fawadchaudhry pic.twitter.com/xzd0ucBqCd
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) June 2, 2021
حکومت کے سفارشات پیش کرنے سے پہلے میڈیا مالکان اور صحافیوں کو چند نکات پر متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ایک دوسرے کے مفادات کا دفاع کرسکیں۔ اس سلسلے میں دو فریقین کا آپس میں تبادلہ خیال کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔









