تھرپارکر کے باسی پانی کی بوند بوند کو ترس گئے
اندرون سندھ میں اربوں روپے کے لگائے گئے 1 ہزار 445 پلانٹ غیرفعال ہوگئے ہیں۔
سندھ حکومت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، اربوں روپے کے لگائے گئے آر او پلانٹس ناکارہ اور غیرفعال ہونے پر تھر کے لوگ کڑوا گھونٹ پینے پر مجبور ہیں۔ تھرپارکر کے نواحی علاقے چیلار کے مکین پانی کی بوند بوند کر ترس گئے ہیں۔
سندھ حکومت کی عدم دلچسپی اور لاپرواہی کی وجہ سے اندرون سندھ میں اربوں روپے کے لگائے گئے 1 ہزار 445 پلانٹ غیرفعال ہوگئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے تھر اور اندرون سندھ میٹھے پانی کی فراہمی کے لیے 2 ہزار 368 آر او پلانٹس لگائے تھے۔ گزشتہ سال 30 جون کو معاہدہ ختم ہونے پر متعدد ٹھیکیداروں نے آر او پلانٹس کو بند کردیا تھا جس کے بعد سے اندرون سندھ میں 1 ہزار 445 آر او پلانٹس غیرفعال ہیں۔ تھر پارکر میں 468، بدین میں 125، ٹنڈو محمد خان میں 45، جامشورو میں 71، مٹیاری میں 49 اور سانگھڑ کے 84 آر او پلانٹس بند ہیں۔

یہ بھی پڑھیے
حکومت کی ذمہ داری ختم پی بی اے کی شروع
چیف سیکریٹری سندھ نے 3 دسمبر 2020 کو آر او پلانٹس بند ہونے کے حوالے سے رپورٹ طلب کی تھی اس کے باوجود کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی تھی۔ تھر کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے انہیں بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ہے۔ انہیں کئی کلو میٹر دور سے پانی بھر کر لانا پڑتا ہے۔
نیوز 360 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مقامی صحافی ساجد نھڑیو نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی پانی فراہمی کا منصوبہ مکمل ناکارہ ہوچکا ہے۔ آر او پلانٹس بند ہونے سے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے، لوگ کڑوا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ چیلار کے آر او پلانٹس بند ہونے سے علاقہ مکین بھی اسی جگہ سے پانی لینے پر مجبور ہیں جہاں سے مویشی پانی پیتے ہیں۔ کڑوے پانی کے استعمال سے بچوں، بوڑھوں اور جانوروں میں مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت کے بعد تھر میں پانی نہیں ملا، لوگ پانی کو ترس رہے ہیں۔ انتخابات کا وقت قریب آتا ہے تو پیپلزپارٹی کے مقامی ایم این ایز، ایم پی ایز اور رہنما ووٹ کے لیے لوگوں کے گھروں میں پانی پہنچاتے ہیں، جیسے ہی انتخابات ختم ہو جاتے ہیں یہ رہنما غائب ہو جاتے ہیں۔

خواتین اپنی مدد آپ کے تحت پانی ڈھونڈ کر لانے پر مجبور ہوگئی ہیں۔ مقامی افراد نے وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے چیلار تک پانی کی رسائی ممکن بنانے کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب سیکریٹری پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ سعید اعوان کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹ ختم ہونے کی وجہ سے آر او پلانٹس غیرفعال ہو گئے ہیں۔ سندھ میں آر او پلانٹس چلانے کے لیے 5 سے 6 اضلاع کے ٹھیکیداروں نے حصہ نہیں لیا۔ سندھ میں آر او پلانٹس چلانے کے لیے سندھ حکومت ہر ایک آپریٹر کو 17 ہزار تنخواہ بھی دے رہی ہے لیکن آر او پلانٹس کو چلانے والے منظر سے غائب ہیں۔

واضح رہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری متعدد مرتبہ اس بات کا دعویٰ کرچکے ہیں کہ سندھ حکومت دیگر صوبائی حکومتوں کے مقابلے میں بہتر طریقے سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ تھر میں 700 آر او پلانٹس لگائے گئے ہیں جہاں سے لوگوں کو صاف پانی دستیاب ہوتا ہے۔ گزشتہ برس 21 جنوری کو بھی بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ سندھ حکومت تھر میں پانی کے منصوبوں کو چلارہی ہے۔









