عدلیہ فواد چوہدری کے نشانے پر کیوں؟
وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے عدلیہ میں ججز کی تعیناتی قابلیت کے معیار پر ہونی چاہیے سنیارٹی کی بنیاد پر نہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایک مرتبہ پھر عدلیہ کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا ہے کہ ججز کی تعیناتی قابلیت پر ہونی چاہیے سنیارٹی پر نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کسی عہدے کے اہل ہیں تو آپ کو اوپر جانا چاہیے اور اگر نہیں تو نیچے آنا چاہیے۔
فواد چوہدری نے عدالتی اصولوں کو چیلنج کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کے سنیارٹی کے اصول پر سوال اٹھا دیے ہیں۔
وفاقی وزیر فواد چوہدری سنیارٹی کی بنیاد پر ججز کی تعیناتی کو "مضحکہ خیز” اور "بے وقوفانہ” فیصلہ قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معمول سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
افغان طالبان کو پروگرام میں مدعو کرنے پر سلیم صافی پر تنقید
فواد چوہدری کی جانب سے یہ مطالبہ سپریم کورٹ میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی تقرری پر پاکستان بار کونسل کی ہڑتال کے بعد سامنے آیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ کسی بھی جج کی تعیناتی کا پیمانہ قابلیت ہونا چاہیے سنیارٹی نہیں۔ واضح رہے کہ جسٹس محمد علی مظہر سنیارٹی کے بنیاد پر 5ویں نمبر ہیں۔
عدلیہ اور عدالتی نظام سے جڑے افراد اکثر وفاقی وزیر فواد چوہدری کے نشانے پر رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بھی تھے۔
انہوں نے رواں برس مارچ میں سپریم کورٹ کے ایک جج کا نام لیے بغیر ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ اگر سیاست کا شوق ہے تو مستعفی ہوکر کونسلر کا الیکشن لڑیں۔
ٹوئٹ میں فواد چوہدری نے لکھا تھا کہ ‘ایک ہفتے سے سپریم کورٹ کے ایک انڈر ٹرائل جج کی تقریریں سن رہے ہیں، اگر جواب دیا تو دکھ ہوا سے لے کر توہین ہوگئی کے بھاشن آجائیں گے’۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے جون میں سندھ ہائیکورٹ کے ٹک ٹاک پر پابندی اور نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے صدر کو ہٹانے کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔ وزیر اطلاعات نے دونوں احکامات پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان فیصلوں سے پاکستان کو اربوں ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
Courts and PTA must stay away from moral policing and Ban Approach,such bans on internet based Apps ll destroy Pak tech industry and development of technology ll be permanently hampered,we are still not out of woods b/o judges illadvised interferece in economic matters
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) July 22, 2020
اسی طرح فواد چوہدری نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر اس وقت بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا جب کراچی کے علاقے ڈیفنس میں کتے کے کاٹنے پر اس حلقے کے پاکستان پیپلز پارٹی کے دو ایم پی ایز کو معطل کردیا تھا۔
فواد چوہدری عدالتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے اکثر عدالتی فیصلوں پر تنقید بھی کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ میں سندھ ہائی کورٹ سے جج تعیناتی کے معاملے پر منگل کو ملک گیر ہڑتال کی تھی۔ اس سے قبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں سندھ ہائی کورٹ سے ایک ’جونیئر جج‘ کی عدالت عظمیٰ میں تقرری کی تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔









