حکومت کا وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا ایک اور عزم

شہباز گل کے مطابق رہائش گاہ کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تجویز یونیورسٹی منصوبے سے الگ ہے۔

وفاقی حکومت نے کفایت شعاری مہم کے تحت وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کی بجائے کمرشل استعمال سے آمدن کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ رہائش گاہ کو ثقافتی اور دیگر تقریبات کے لیے کرائے پر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ معاون خصوصی شہباز گل نے اس الجھن کو دور کرنے کی کوشش کی ہیے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ “کچھ لوگ وزیراعظم ہاؤس کے لان اور کچھ دوسرے حصوں کو عام پبلک کے استعمال کے لیے کھول کر اس کو منافع بخش بنانے کی خبر پر تبصرہ کر رہے ہیں کہ اب یونیورسٹی نہیں بن رہی۔”

یہ بھی پڑھیے

کیا مکھیاں بھی ڈیلٹا ویریئنٹ پھیلانے کی ایک وجہ ہو سکتی ہیں؟

انہوں نے اپنے پیغام میں مزید لکھا ہے کہ “رہائش گاہ کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تجویز یونیورسٹی کے منصوبے سے الگ تھی۔ عمران خان قوم کے ایک ایک پیسے کی بچت کرنا چاہتے ہیں۔”

وفاقی کابینہ کی منظور کی گئی سمری کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کو مقامی و عالمی فوڈز ، ثقافتی ، فیشن ، ونٹیج گاڑیوں کی نمائش اور کارپوریٹ تقریبات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

وزیراعظم ہاؤس کو تجارتی مقاصد کے استعمال کی خبروں کے بعد وفاقی کابینہ کے فیصلے کو جہاں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے کہ وہیں لوگوں کی اکثریت اس تجویز کو اچھے اقدام سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ “رہائش گاہ کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک بے مثال قدم ہوگا۔”

ان کا کہنا ہے کہ “ملک کرونا کی وباء کی وجہ سے جس مالی بحران کا شکار ہے اس اقدام سے قومی خزانے کا کچھ بوجھ کم ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 2018 میں حلف اٹھانے کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

Facebook Comments Box