ن نے ش کے بغیر انتخابات کی تیاری شروع کردی
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں ن لیگ جیت تو گئی تاہم پارٹی کے دونوں بڑوں کے بیانیے میں فرق واضح دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے ڈویژن کی سطح پر اپنی تنطیم کے عہدیداروں کے ساتھ میٹنگز شروع کردی ہیں ۔ یہ اجلاس بند کمروں میں ن لیگ کے تاحیات قائد میاں نواز شریف کی زیرصدارت ہورہے ہیں جبکہ شہباز شریف ان اجلاسوں میں کہیں دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔
بدھ کے روز ڈیرہ غازی خان میں اجلاس ہوا جس میں تمام پارٹی عہدیداروں نے شرکت کی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اس اجلاس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز ، احسن اقبال ، رانا ثناء اللہ اور پرویز رشید سمیت کئی دیگر رہنماؤں نے شرکت کی، تاہم شہباز شریف اجلاس میں حاضر نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
آزادیءِ اظہار رائے کا علمبردار جنگ اخبار سوشل میڈیا کے خلاف برسرپیکار
جمعرات کے روز نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس بہاولپور میں ہوا اس اجلاس میں بھی شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے شرکت نہیں کی۔ اطلاعات کے مطابق شہباز شریف اپنی مرضی سے اجلاسوں میں شرکت نہیں کررہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اجلاسوں کا مقصد پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو گراس روٹ لیول پر متحرک کرنا ہے ۔ میاں نواز شریف کی سیاست کا اپنا نقطہ نظر ہے جبکہ شہباز شریف سیاست میں اپنا موقف رکھتے ہیں۔
سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کے نتائج بتاتے ہیں کہ نواز شریف ہی نہیں ساری پارٹی متحرک ہے۔ تاہم ایک چیز جو ان انتخابات کے نتیجے میں سامنے آئی وہ بیانیہ کا فرق تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات میں جیت کو "ووٹ کو عزت دو” کی بجائے "کام کو عزت دو” کا نعرہ بلند کیا ہے۔ بیانیے کا یہ فرق پارٹی کے دو بڑوں کے درمیان خلیج پیدا کررہا ہے جو آئندہ کے عام انتخابات میں نقصان کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے الیکشن تو لڑنا ہے اور لڑنا بھی شہباز شریف کی زیر قیادت جو ن لیگ کے صدر ہیں۔ تاہم جنوبی پنجاب میں ہونے والی میٹنگ میں شہباز شریف کہیں دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کررہے ہیں کہ جب سے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی بیل ہوئی ہے وہ کسی پارٹی اجلاس یا میٹنگ میں شریک نہیں ہو رہے ہیں اور پتا نہیں کہاں غائب ہیں، اور پارٹی کے صدر پارٹی کے تنظیمی امور سے لاتعلق ہیں، یعنی ن لیگ آئندہ کے انتخابات کی تیاری صدر کی غیر حاضری میں کررہی ہے۔









